وفاقی کابینہ: پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ کی منظوری، طارق باجوہ چیئرمین مقرر

منگل 26 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی کابینہ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) ہولڈنگ کمپنی کے 11 رکنی بورڈ کی منظوری دیدی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی اجازت سے سرکولیشن کے ذریعے سمری منظور کرائی گئی ہے۔

پاکستان ایئر لائن کی نجکاری کا دوسرا اہم ترین مرحلہ بورڈ کی منظوری کے بعد عبور کر لیا گیا۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ 11 رکنی بورڈ کا چیئرمین سابق گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کو بنایا گیا ہے جبکہ اس میں 7 خود مختار ڈائریکٹرز اور 4 سرکاری افسران بھی شامل ہوں گے، جس کی منظوری دیدی گئی ہے۔

اب پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے واجبات اور اثاثوں کو بھی ہولڈنگ کمپنی میں منتقل کر دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں پی آئی اے کی تنظیم نو اور نجکاری کے لیے اسکیم آف ارینجمنٹ کی منظوری دی گئی تھی۔

مسلم لیگ ن نے عام انتخابات سے قبل ہی کہہ دیا تھا کہ اگر وہ اقتدار میں آتی ہے تو نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجاری کرے گی، مگر پیپلزپارٹی اداروں کی نجکاری کے خلاف تھی۔ مگر موجودہ معاشی صورت حال میں پیپلزپارٹی کو بھی نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کے لیے راضی کر لیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بغیر نوٹیفیکیشن پڑھے بیکری بند کروانا اے سی صاحبہ کو مہنگا پڑگیا

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ داخل، ملک بھر میں بارشیں، آندھی اور ژالہ باری کی پیشگوئی

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا دورۂ پاکستان، عدالتی تعاون کا معاہدہ طے پانے کا امکان

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج ہلاک

ویڈیو

سعودی عرب سے ترسیلات اور حجاز مقدس سے متعلق شہریوں کے خیالات

حج اور عمرہ کی یادیں جو آنکھوں کو نم کر دیں

پیغام پاکستان بیانیہ، محراب و منبر کی اصلاح اور عدالتی انصاف شدت پسندی ختم کر سکتا ہے: علّامہ عارف الواحدی

کالم / تجزیہ

’میں نے کہا تھا ناں کہ پھنس جائیں گے؟‘

ہز ماسٹرز وائس

ایران یا سعودی عرب: پاکستان کو مشکل فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے؟