محسن نقوی کی کرکٹرز سے ملاقات، بابر اعظم کپتان رہیں گے یا نہیں؟

پیر 8 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کرکٹرز سے ملاقات کی اور کرکٹ کی بہتری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملاقات میں کھلاڑیوں کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں بھارت سے شکست، چیئرمین پی سی بی کا قومی ٹیم کی سرجری کا فیصلہ

انہوں نے کہاکہ اس موقع پر ڈومیسٹک کرکٹ کو بہتر بنانے پر مشاورت کی گئی، جبکہ کرکٹرز نے ڈومیسٹک اسٹرکچر کو بہتر بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہاکہ کھلاڑیوں نے فٹنس پر کوئی رعایت نہ برتنے کا مشورہ دیا ہے، کوچز کے ساتھ آج ملاقات نہیں ہوسکی، کل ملاقات کروں گا۔

صحافی کے سوال پر محسن نقوی نے کہاکہ بابر اعظم کے کپتان رہنے یا نہ رہنے پر ابھی کوئی بات نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں گراس روٹ لیول کی کرکٹ میں سرجری کی ضرورت ہے، شاہد آفریدی

واضح رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد محسن نقوی نے کہا تھا کہ ٹیم میں سرجری کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں