وزیر اعظم شہباز شریفنے عوام کے منتخب نمائندوں سے صوبہ خیبر پختونخوا میں بجلی کی چوری روکنے میں حکومت کی معاونت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع کی ترقی ان کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ انضمام شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیںَ: انسدادِ بجلی چوری مہم: بجلی چوروں سے 95 بلین روپے وصول، 78 ہزار سے زائد گرفتار
شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا بالخصوص ضم شدہ اضلاع کے غریب اور متوسط طبقے کو عالمی معیار کی تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے دانش سکول قائم کیے جائیں گے، انضمام شدہ اضلاع میں صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پاور سیکٹر میں اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سالانہ اربوں روپے کی بجلی چوری کے خاتمے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے، انہوں نے منتخب نمائندوں پر زوردیا کہ وہ بجلی چوری کے خاتمے میں حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔
مزید پڑھیں: کیا پری پیڈ میٹرنگ، بجلی چوری کا واحد حل ہے؟
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ملک بھر میں زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف زرعی شعبہ ترقی کرے گا بلکہ کسان کو سستی بجلی بھی میسر آئے گی اور اس کے علاوہ زیر کاشت رقبہ میں اضافہ سمیت درآمدی ایندھن کی مد میں اربوں ڈالر کی بچت ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے حال ہی میں غریب اور متوسط طبقے کو بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف فراہم کیا ہے، حکومت کو معیشت کی بحالی کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے، ہم نے سیاست پر ریاست کو ترجیح دے کر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے۔














