بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان، کونسے مطالبات مان لیے گئے؟

جمعہ 2 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے کامیاب مذاکرات کے بعد صوبہ بھر میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی اور حکومت کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آج سے صوبے بھر کی تمام قومی شاہراہیں کھول دی جائیں گی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کو رہا کیا جائے گا، صوبے میں موبائل نیٹ ورک جلد بحال اور تمام رکاوٹیں ہٹا کر تمام بند راستے کھول دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور پولیس آمنے سامنے، مظاہرین نے پولیس موبائل کو آگ لگا دی

گوادر کے ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں صوبائی حکومت اوربلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں وزیرداخلہ بلوچستان میرضیااللہ لانگو اور صوبائی وزیر میر ظہور بلیدی بھی موجود تھے۔

حکومتی مذاکراتی ٹیم میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان، کمشنر مکران ڈویژن داؤد خلجی، ڈپٹی کمشنر گوادر حمودالرحمان، ڈی آئی جیز سمیت دیگر حکام بھی شامل تھے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ’حق دو تحریک‘ کے چیئرمین حسین واڈیلا، بی این پی مینگل کے ماجد سورابی، جے یوآئی کے مولانا عبدالحمید سمیت دیگر رہنماوں نے ثالث کا کردارادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: کوئٹہ و گوادر سمیت مختلف شہروں میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے جاری،صورتحال کشیدہ

اس موقع پر وزیر داخلہ بلوچستان میرضیا لانگو نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر 4 روز قبل گوادر پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران حکومت، انتظامیہ اور اداروں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پہلے ہی روز کہہ دیا تھا کہ ہرمسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ احتجاج ضرور کریں مگر احتجاج کی آڑ میں سیکیورٹی فورسز پر حملے نہ کریں اور املاک اور عوام کو نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی سازش کے تحت جنگ کی جارہی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان

واضح رہے کہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں مرین ڈرائیو کے مقام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیراہتمام اتوار کی شب ’راجی مچی‘ نامی اجتماع کا انعقاد کیا گیا تھا جو دھرنے کی شکل اختیار کرگیا تھا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا اور مظاہرین نے پولیس موبائل کو آگ لگا دی تھی۔

مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر نوشکی، قلات اور مستونگ سمیت ملحقہ علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بھی دھرنے کا انعقاد کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

جنوبی خیبر پختونخوا میں ریاستی رِٹ کی بحالی، متوازی طاقت کے مراکز کے خلاف فیصلہ کن کارروائی

’دنیا کے رنگ نرالے‘ امریکا میں روبوٹ ویٹر نے بھی ٹِپ مانگ لی

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں