عشرت علی رجسٹرار سپریم کورٹ کے عہدے سے فارغ، او ایس ڈی بنادیے گئے

پیر 3 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار عشرت علی کی عہدے سے برطرفی کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنیسٹریٹیو سروس کے گریڈ 22 کے افسر عشرت علی ڈیپیوٹیشن پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے عہدے پر فائز تھے تاہم اب ان کی رجسٹرار کی حیثیت سے خدمات واپس لی جاتی ہیں۔ عشرت علی کو تاحکم ثانی او ایس ڈی بناتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔

قبل ازیں زیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس نے قاضی فائز عیسیٰ کے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو لکھے گئے خط کے بعد رجسٹرار کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

وفاقی کابینہ نے عدالت عظمیٰ کے حکم کے خلاف رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے سرکولر جاری کرنے کے معاملے پر غور کیا جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل نے کابینہ کو مختلف امور پر بریفنگ دی۔

وفاقی کابینہ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 پر فی الفور دستخط کریں تاکہ ملک کو آئینی وسیاسی بحران سے نجات مل سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس نے الیکشن التوا کے حوالے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس پر غور کیا جس دوران سرکاری افسران کو میٹنگ ہال سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔

وفاقی کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں یہ بھی غور کیا گیا کہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کی صورت میں کیا لائحہ عمل طے کیا جائے ۔

یاد رہے کہ 31  مارچ کو  سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے ایک سرکولر جاری کیا گیا تھا جس کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق پہلے سے جاری الیکشن التوا کیس میں نہیں ہوتا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے پیر کے روز جاری کردہ فیصلے میں یہ لکھا ہے کہ میں 31 مارچ کا سرکولر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ سرکولر 29 مارچ کو دیے گئے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ رجسٹرار کو عدالتی حکم نامہ ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ چیف جسٹس اس طرح کے کوئی انتظامی احکامات جاری نہیں کرسکتے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ نے الیکشن التوا کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو منگل کے روز سنایا جائے گا۔

اس سے قبل حکومتی اتحاد نے موجودہ بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا تھا مگر چیف جسٹس نے ایسی کسی بات کو زیر غور لانے سے گریز کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

تین گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ