آج کی دنیا میں ذہنی دباؤ اور تھکن تقریباً ہر انسان کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ لوگ سکون حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقے آزما رہے ہیں۔ کہیں یوگا کی مشقیں کی جا رہی ہیں، کہیں سانس کی تکنیکیں سکھائی جا رہی ہیں، اور کہیں grounding exercises کو ذہنی سکون کا ذریعہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام نے صدیوں پہلے ہی ایک ایسا عمل ہمیں عطا کیا ہے جو نہ صرف عبادت ہے بلکہ انسان کے دل و دماغ کو گہرا سکون بھی دیتا ہے۔ یہ عمل ہے سجدہ۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’سجدہ کرو اور اپنے رب کے قریب ہو جاؤ۔ (سورۃ العلق 96:19)
اسی طرح نبی کریمؐ نے فرمایا(مفہوم حدیث) :
’بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے‘۔(صحیح مسلم)
سجدہ دراصل انسان کے لیے ایک منفرد لمحہ ہے۔ ظاہری طور پر انسان جھکتا ہے، مگر حقیقت میں اسی لمحے وہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل میں صرف عبادت نہیں بلکہ ایک گہری روحانی اور نفسیاتی حکمت بھی موجود ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کا سر دل سے نیچے آ جاتا ہے۔ اس حالت میں دماغ کی طرف خون کی روانی عارضی طور پر بڑھ جاتی ہے، جس سے دماغ کو زیادہ آکسیجن اور غذائیت ملتی ہے۔ اس بہتر گردش کے نتیجے میں ذہنی دباؤ کے ہارمون کم ہو سکتے ہیں اور جسم کا relaxation response فعال ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگ سجدے کے بعد ایک عجیب سا سکون اور ہلکا پن محسوس کرتے ہیں۔
نفسیات اور نیورو سائنس میں ایک تصور grounding کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے جسم کو زمین کے قریب لا کر اعصابی نظام کو پرسکون کرنا۔ سجدے میں جب پیشانی زمین کو چھوتی ہے تو انسان کا جسم قدرتی طور پر parasympathetic nervous system کو متحرک کرتا ہے، جو تناؤ کو کم کرنے اور ذہنی سکون پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بعض محققین اسے earthing effect بھی کہتے ہیں، جہاں زمین کے ساتھ جسم کا رابطہ جذباتی توازن اور سکون کو بڑھانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
اگر ہم غور کریں تو انسان کا جسم خود بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب انسان بہت زیادہ پریشان یا تھکا ہوا ہوتا ہے تو اکثر وہ سر جھکا لیتا ہے یا ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیتا ہے۔ گویا جسم خود ہی جھکنے کے ذریعے سکون تلاش کرتا ہے۔ اسلام نے اسی فطری کیفیت کو عبادت کا حصہ بنا دیا ہے اور اسے اللہ کے قرب کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
کبھی کبھی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب ذہن بہت بھاری محسوس ہوتا ہے اور الفاظ بھی کم پڑ جاتے ہیں۔ ایسے میں سجدہ ایک ایسا مقام بن جاتا ہے جہاں انسان اپنے رب سے خاموشی میں بھی بات کر سکتا ہے۔ کبھی صرف اتنا کہنا کافی ہوتا ہے:
’ یا اللہ، میں تھک گیا ہوں‘۔
اکثر اوقات انسان کو مضبوط بننے کے لیے کھڑا ہونے کی نہیں بلکہ چند لمحوں کے لیے اپنے رب کے سامنے جھک جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی زندگی کا سب سے گہرا سکون سر اٹھانے سے نہیں بلکہ سر جھکانے سے ملتا ہے۔














