پشاور: مقامی ہوٹل میں آتشزدگی، بروقت کارروائی کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا

اتوار 9 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور خیبر روڈ پر واقع ایک  ہوٹل کی چھٹی منزل کی لفٹ میں آگ بھڑک اٹھی، آگ پر قابو پانے کے دوران ریسکیو کے 9 فائر فائٹرز کی حالت غیر ہوگئی۔

پشاور خیبر روڈ پر واقع ایک نجی ہوٹل میں لگنے والی آگ پر 3 گھنٹے اور 30 منٹ کی بھرپور کوششوں کے بعد قابو پالیا گیا۔

انتظامیہ کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔

ریسکیو 1122 کے مطابق واقع کی اطلاع موصول ہوتے ہی فائر ویکل نے موقع پر پہنچ کر امدادی کاروائیاں شروع کر دی تھیں۔ جس کے نتیجے میں بروقت امدادی کارروائی کے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا۔

انتظامیہ کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، اس صورت میں ہوٹل کی بالائی منزل میں موجود 21 افراد کو ریسکیو 1122 کی 110 فٹ لمبی سنارکل استعمال کرتے ہوئے نیچے اتارا گیا جبکہ ہوٹل سے دھواں نکالنے کے لیے سموک ایجکٹرز کا استعمال کیا گیا۔

دھویں سے متاثرہ فائر فائٹر کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

آگ بجھانے کی ان کوششوں کے دوران ریسکیو 1122 کے 9 فائر فائٹرز کی حالت بھی غیر ہوئی تاہم فوری طبی امداد کے نتیجے میں ان طبیعت زیادہ خراب ہونے سے بچا لی گئی۔

 

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دفتر خارجہ میں قونصلر خدمات کے لیے شام کی شفٹ کا آغاز، اوقات کار رات 8 بجے تک بڑھا دیے گئے

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ، کاروبار اور معیشت کو کیا فائدہ ہوگا؟

پیٹرولیم کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول ایک روپے سستا اور ڈیزل 3.37 روپے مہنگا

ایران سے بات چیت جاری ہے، ناکامی کی صورت میں سخت حملہ کردیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

ویڈیو

ڈی ڈبلیو کی پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر دستاویزی فلم: صحافت یا پروپیگنڈا؟

طالبان مخالف مزاحمت نئے مرحلے میں داخل، مسلح جدوجہد مقامی کارروائیوں سے منظم بغاوت کی جانب گامزن

کراچی کی منور چورنگی پر اب ٹریفک جام نہیں ہوگا، انڈر پاس عوام کے لیے کھول دیا گیا

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان