پی ٹی آئی 26 نومبر کو ملک گیر احتجاج کیوں نہ کر سکی؟

بدھ 26 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف 26 نومبر کو ملک گیر احتجاج کا پلان کر رہی تھی، تاہم پارٹی نے احتجاج کے بجائے صرف پشاور میں ایک مرکزی تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں جاں بحق کارکنوں کے اہلِ خانہ سمیت پارٹی رہنما اور وزیرِاعلیٰ کی شرکت متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی کے دعوے حقیقت سے عاری ہیں، طارق فضل چوہدری

پارٹی کے مطابق یہ تقریب شام 5 بجے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس، فٹبال گراؤنڈ میں ہوگی۔ مختلف اضلاع میں قرآن خوانی کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

احتجاج کے بجائے تقریب کیوں؟

حیات آباد میں تقریب کی تیاریوں میں مصروف پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ اصل پلان ملک کے تمام بڑے شہروں میں احتجاج کا تھا۔ ان کے مطابق میرا ارادہ تو آج احتجاج میں نکلنے کا تھا۔ پوچھنا تھا کہ 26 نومبر کو پُرامن مظاہرین پر گولی کیوں چلائی گئی تھی۔ لیکن پارٹی نے تقریب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

رہنما نے کہا کہ کم از کم پشاور میں احتجاج ضروری تھا مگر قیادت نے مختلف وجوہات کی بنا پر اس فیصلے سے گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی آج محدود احتجاج کی تیاری کر رہی تھی، جو عمران خان کی اجازت سے مشروط تھی۔ بعض رہنماؤں کے مطابق ممکن ہے کہ چیئرمین سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے بھی احتجاج کا پلان واپس لے لیا گیا ہو۔

پی ٹی آئی کا سرکاری مؤقف

یومِ شہدا 26 نومبر کے حوالے سے جاری کردہ پاکستان تحریک انصاف کے سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج اس ’دردناک دن‘ کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، جب اسلام آباد میں پارٹی کے پُرامن کارکنان پر طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی ورکرز شہید اور زخمی ہوئے۔

بیان کے مطابق یہ دن انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کو روندنے کی یاد تازہ کرتا ہے۔ پارٹی نے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں جدوجہد کا روشن چراغ ہیں۔ پی ٹی آئی نے عوام کو پشاور کے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی دعوت دی، تاکہ شہداء کو قومی سطح پر یاد کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی والے منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں، اختیار ولی کا دعویٰ

بیان میں کہا گیا کہ یہ تحریک آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کی رہائی کی جدوجہد ہے، اور یہ جمہوریت کی بحالی تک جاری رہے گی۔

پی ٹی آئی نے 26 نومبر 2024 کے واقعات، میڈیا پابندیوں، سیاسی انتقام اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت بھی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ ظلم ہمیشہ نہیں رہتا، عوام کی آواز آخرکار ہر جبر کو شکست دیتی ہے۔

پارٹی نے کارکنان اور شہدا کے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

بیان کے مطابق ہم اپنے شہداء کے نام پر کھڑے ہیں، اپنے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، اور تمام اسیرانِ جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ یہ قافلہ رکا نہیں اور اسے روکنا اب کسی کے بس میں نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چین نے دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر بنا کر امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا

مصنوعی ذہانت اب بھکاریوں کے پیٹ پر بھی لات مارے گی؟ ری چارجنگ کو ترستے روبوٹ نے سڑک پر ہاتھ پھیلا دیے

سنگاپور : بزرگ خاتون کے کچرے سے بھرے فلیٹ سے ہزاروں ڈالرز کے سکے اور سونا برآمد

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: ایران کا پاکستان کے کردار کا باضابطہ اعتراف، صدر مسعود پزشکیان کا دورہ نہایت اہم

افغانستان: طاقت، وسائل اور عہدوں پر قندھاری قیادت کی اجارہ داری، طالبان حکومت کے خلاف نئی رپورٹ نے ہلچل مچا دی

ویڈیو

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے استقبال کیا، 21 توپوں کی سلامی، گارڈ آف آنر پیش

پاکستان نے ایران امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ڈرگ روڈ کا نام ’شارع فیصل‘ کیوں رکھا گیا، تاریخی اہمیت کیا ہے؟

کالم / تجزیہ

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا