دل اور قوت مدافعت کی بیماریوں کی ویکسین 2030 تک دستیاب ہو گی

پیر 10 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہرین نے کہا ہے کہ دل اور قوت مدافعت کی بیماریوں کے علاج کے لیے نئی ویکسین 2030 تک دستیاب ہو گی جس سے ممکنہ طور پر دنیا بھر میں لاکھوں جانوں کو بچایا جا سکتا ہے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر جاری تحقیق کے امید افزاء نتائج سامنے آ رہے ہیں کیونکہ کورونا وائرس کے دوران بننے والی ویکسین نے تحقیق کے عمل کو 15 سال سے کم کر کے 12 سے 18 ماہ کر دیا ہے ۔

ماہرین کے مطابق وبائی مرض کی وجہ سے اس تحقیق کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا جبکہ کورونا وائرس کے دوران ویکسین بنانے کی مہارت میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور صرف ایک سال میں ایک دُہائی کا علم حاصل کر لیا گیا ۔

وبائی مرض نے ویکسین کے دیگر طریقوں کو بھی فائدہ پہنچایا جیسا کہ پروٹین پر مبنی ویکسین نووایکس فرم کی بنائی ہوئی ہیں ۔

فارماسیوٹیکل کمپنی موڈرنا کے چیف میڈیکل آفیسر پال برٹن نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ فرم 5  سال سے کم عرصے میں ہر طرح کی بیماریوں کے لیے اس طرح کے علاج کی پیشکش کر سکے گی ۔

پال برٹن نے کہا کہ ہمارے پاس جلد یہ ویکسین ہوگی جس سے لاکھوں جانوں کو بچایا جا سکے گا ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ متعد د انفیکشنز کو ایک ہی انجیکشن کے ذریعے کور کیا جا سکتا ہے جس سے کمزور لوگوں  کو مشکل مراحل سے گزارنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر اس مقصد کے لیے خاطر خواہ رقم فراہم نہ کی گئی تو برسوں کی تمام کوششیں ضائع ہو جائیں گی ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

سیول کی کچی آبادی میں ہولناک آتشزدگی، 300 فائر فائٹرز متحرک

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘