ہالووین 31 اکتوبر ہی کو کیوں منایا جاتا ہے؟

جمعرات 31 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہالووین ہر برس 31 اکتوبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں یہ دن منانے کے لیے مہینوں پہلے سے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں لیکن گزشتہ چند برسوں میں اس دن کو منانے کا رجحان نہ صرف دنیا کے باقی ممالک میں بڑھا ہے بلکہ بعض مسلمان ممالک میں بھی اس دن کو منایا جانے لگا ہے۔

اس روز بچے، بڑے اور بوڑھے  مخلتف روپ دھارتے ہیں، اس طرح وہ ڈراؤنی شکلیں اختیار کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو ڈراتے ہیں۔ اس دن کو جنوں اور چڑیلوں کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس دن خوفناک روپ دھارتے ہیں۔

پاکستان میں بھی اکتوبر کے وسط سے ہی اس دن کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ جس کے سبب سپر اسٹورز، مارکیٹس اور شاپنگ مالز میں ڈراؤنے کاسٹیومز، خوفناک ماسک، ڈھانچے، ویگز، خونخوار دانت اور مختلف اشیاء دستیاب ہوتی ہیں۔ آج کل بچوں کے سکول اور کالجز میں بھی اس قسم کے تہوار منانے کا رواج بڑھا ہے۔ مارکیٹ میں یہ اشیا خریدنے والوں میں زیادہ تعداد والدین کی ہوتی ہے۔

ہالووین کی تاریخ کیا ہے؟

ہالووین ڈے 31 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ قدیم سلتک تہوار ’سوان‘ سے وابستہ ہے۔ یہ سردیوں کے آغاز، فصلوں کی کٹائی اور مردوں کی روحوں کی واپسی کی یادگار تھا۔ اس دوران لوگ آگ جلا کر اور مختلف ملبوسات پہن کر روحوں سے بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ

 خوفناک مٹھائیاں بھی تقسیم کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، یہ تہوار بہت سے ثقافتی عناصر کو شامل کرتے ہوئے مزید تفریحی اور تجارتی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مزید جانیے اس ویڈیو رپورٹ میں

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دھند کے باعث پاکستان میں فضائی آپریشن متاثر

بلوچستان کے علاقے خاران میں مسلح افراد کا تھانے اور بینکوں پر دن دہاڑے حملہ، ویڈیوز وائرل

ریل کی پٹریوں سے جنم لینے والا قصبہ، جہاں کی سیر سیاحوں کا خواب بن گیا

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں برفباری، لینڈ سلائیڈنگ کا الرٹ جاری

امریکی ٹیرف کا دباؤ، بھارت نے لڑکھڑاتی معیشت کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیے

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

جامعہ اشرفیہ کے انگریزی جریدے کے نابینا مدیر زید صدیقی

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘