26ویں آئینی ترمیم کیخلاف 28 خواتین وکلا نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

پیر 18 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

26ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا سلسلہ مذکورہ ترمیم کے تحت عدالت عظمیٰ میں آئینی بینچ کے قیام کے بعد بھی جاری ہے، حالیہ درخواست خواتین وکلا کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر عابد زبیری نے بھی 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

زینب جنجوعہ اور ایمان مزاری سمیت 28 خواتین وکلا کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست میں سپریم کورٹ کا فل بینچ تشکیل دے کر 26ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لینے کی استدعا کی گئی ہے۔

Redacted Final 26th Amendment Challenge (17!11!2024) by Asadullah on Scribd

خواتین وکلا کی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم بنیادی حقوق کیخلاف ہے، سینیٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی کے بغیر آئینی ترمیم نہیں ہوسکتی۔

مزید پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں کی سماعت اسی ہفتہ کی جائے، 2 سینیئر ججوں کا چیف جسٹس سے مطالبہ

درخواست میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کو فریق بناتے ہوئے جائزے کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کالعدم قرار دینے اور مذکورہ آئینی ترمیم کے تحت ہونے والے اقدامات پر عملدرآمد روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟