چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے تمام انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کی حمایت میں آپ کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ آپ کو بغیر کسی سیاسی دباؤ میں آئے بغیر ملک کے آئین کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’وی وی آئی پی‘ آمدورفت کے دوران عوام کی پریشانی، وزیراعلیٰ بلوچستان کا چیف سیکریٹری کو مراسلہ
جمعرات کو چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا، تمام صوبائی سیکرٹریز، تمام ڈویژنل کمشنرز، تمام ریجنل پولیس افسران، تمام ڈپٹی کمشنرز، تمام ضلعی پولیس افسران، تمام محکموں کے سربراہان، تمام خود مختار اور نیم خود مختار اداروں کے سربراہان، تمام ٹی ایم اوز اور بلدیاتی اداروں کے نام خط ارسال کیا ہے۔
Chief Secy KP by Iqbal Anjum on Scribd
خط میں لکھا ہے کہ ’یہ خط اس قوم کے سرکاری ملازم کی حیثیت سے ہمارے فرض کی یاد دہانی کے طور پر لکھا جا رہا ہے جس کے تحت ریاست کی طرف سے ہمارے عہدوں پر ایک گہری اور بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
خط میں قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ عوام کی خدمت کرنا اور بغیر کسی خوف، جانبداری یا تعصب کے قانون کی پاسداری کرنا، ہمارے کردار اور ہمارے نظام کا لازمی جزو ہے اور اس دور میں قائد اعظم محمد علی جناح کے ان الفاظ پر غور کرنا بہت ضروری ہے، جو ہمارے لیے رہنما اصول کا کام کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:کرم واقعہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نوٹس لے لیا، رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
’قائد اعظم نے کہا تھا کہ پہلی بات جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آپ کو کسی سیاسی دباؤ، کسی سیاسی پارٹی یا انفرادی سیاست دان سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ پاکستان کا وقار اور عظمت بلند کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی دباؤ کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام اور ریاست کے خادم کی حیثیت سے بلا خوف و خطر اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔
سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کی حمایت میں آپ کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ آئین کے مطابق جو بھی حکومت بنے اور جو بھی وزیر اعظم یا عام وزیرآئینی طریقے سے اقتدارمیں آئے، آپ کی ذمہ داری نہ صرف وفاداری اور وفاداری کے ساتھ اس حکومت کی خدمت کرنا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ بے خوف بھی رہنا ہے۔ اپنی اعلیٰ ساکھ، اپنے وقار، اپنی عزت اور اپنی خدمت کی سالمیت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اگر آپ اس عزم کے ساتھ آغاز کریں گے تو آپ پاکستان کی تعمیر، اپنے تصور اور ہمارے خواب کو ایک شاندار ریاست اور دنیا کی عظیم ترین قوموں میں سے ایک بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے‘۔
یہ بھی پڑھیں:24نومبر احتجاج: وزارت داخلہ پاکستان نے چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو اہم مراسلہ لکھ دیا
چیف سیکریٹری نے خط میں لکھا ہے کہ ’یہ الفاظ ہمارے فرض کا خلاصہ بیان کرتے ہیں کہ غیر سیاسی، غیر جانبدار اور قانون کی حکمرانی کے لیے ثابت قدم رہنا ہمارا فرض ہے۔ عوامی اعتماد کے محافظ کی حیثیت سے ہم سیاسی منظرنامے سے قطع نظر غیر جانبداری سے اپنے فرائض انجام دینے کے پابند ہیں۔ ہماری وفاداری آئین اور ریاست کے ساتھ ہے، کسی سیاسی جماعت یا رہنما کے ساتھ نہیں ہے۔
لہٰذا تمام سرکاری عہدیداروں پر لازم ہے کہ وہ سرکاری وسائل، اثاثوں یا اختیارات کے غلط استعمال کے لیے کسی لالچ یا دباؤ کا بھرپور مقابلہ کریں۔ آپ سب کو کسی بھی سیاسی جماعت یا سرگرمی کو براہ راست یا بالواسطہ مدد فراہم کرنے سے گریز کرنی چاہیے۔ اس طرح کے اقدامات فرض کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آئیں گے اور سرکاری ملازمین کے طور پر ہماری شبیہ خراب کریں گے جس کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ اس اصول سے کسی بھی انحراف سے فیصلہ کن طور پر نمٹا جائے گا ، جو ایسا کرے گا وہ سخت قانونی نتائج کو دعوت دے گا۔
یہ بھی پڑھیں:24 نومبر احتجاج: وفاقی وزیر و سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد ہائیکورٹ طلب
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا نے خط میں مزید لکھا کہ ’ سرکاری عہدیدار یا ملازمین واضح طور پر سمجھ لیں کہ سیاسی قیادت کی تعمیل صرف آئین کے مطابق قانونی احکامات پر عمل درآمد تک محدود ہے۔ آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق پر عمل کریں گے اور ہر قیمت پر سیاسی غیر جانبداری کو برقرار رکھیں گے۔ اپنے اقدامات کو دیانت داری کے اعلیٰ ترین معیار کی عکاسی اور مثال بنائیں، کیونکہ عوام غیر جانبدارانہ حکمرانی کے لیے آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔
چیف سیکریٹری نے مزید لکھا کہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے اوپر عوام کے اعتماد کا احترام کریں اور ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں جو اس کے بانیوں کے عظیم نظریات کی عکاسی کرتا ہو۔ عظمت کی بنیاد دیانت داری، انصاف اور مشترکہ بھلائی کے لیے غیر متزلزل وابستگی پر رکھی گئی ہے۔ یہ ہمارا اجتماعی مشن اور عوامی خدمت کا بنیادی مقصد ہے۔














