شہباز شریف کا ڈی جی خان اور مظفر گڑھ میں مفت آٹا فراہمی کے مراکز کا دورہ ، انتظامات کا جائزہ

بدھ 12 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان میں مفت آٹے کی تقسیم کے مرکز کا دورہ کیا ہے جو غازی یونیورسٹی میں قائم کیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آٹے کی تقسیم کے نظام کا جائزہ لیا اور اس موقع پر خود بھی لوگوں میں آٹا تقسیم کیا۔

شہباز شریف نے اس موقع پر لوگوں کے مسائل سنے جبکہ حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک ڈویژن کے مستحقین میں 49 لاکھ آٹے کے بیگز تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے شہباز شریف کو بریفنگ دی گئی کہ ڈیرہ غازی خان کے مستحقین میں 13 لاکھ سے زائد آٹے کے بیگز تقسیم کرنے کا عمل جاری ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کے ارکان نے بھی ملاقات کی اور بتایا کہ ہمارا نمائندہ وفد لوگوں میں آٹے کی تقسیم کے عمل میں پیش پیش ہے جس پر وزیراعظم نے کہا کہ قوم کی بیٹیوں کا جذبہ قابل تحسین ہے۔

دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے مظفر گڑھ میں آٹے کی تقسیم کے مرکز کا دورہ کیا اور سہولیات کا جائزہ لیا، اس موقع پر وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی ان کے ساتھ تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

امریکی سینیٹر کوری بُوکر کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم قرار

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘