محبت کی خاطر لائن آف کنٹرول عبور کرنے والی 22 سالہ لڑکی آزاد کشمیر میں گرفتار

جمعرات 28 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فاطمہ نے اپنی محبت کی خاطر تن تنہا لائن آف کنٹرول عبور کرکے ہر طرح کا خطرہ مول لیا تھا، لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ یہ محبت اسے جیل تک پہنچا دے گی۔

پیر کے روز آزاد جموں و کشمیر کی پولیس نے بھارتی زیرتسلط جموں و کشمیر سے ’غیرقانونی‘ طور پر لائن آف کنٹرول عبور کرکے آزاد کشمیر میں داخل ہونے والی 22 سالہ فاطمہ بی بی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے ایک عزیز کے ساتھ شادی کی غرض سے لائن آف کنٹرول عبور کرکے آزاد کشمیر آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جائیں تو کہاں جائیں، ایک طرف بھارتی مظالم اور دوسری طرف جدائی کا غم

پولیس کے مطابق، 22 سالہ فاطمہ بی بی اتوار کے روز پونچھ سے لائن آف کنٹرول عبور کرکے آزاد کشمیر میں اپنے عزیز کے گھر پہنچی، جہاں پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ فاطمہ کا تعلق بھارت کے زیرتسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کے گاؤں کرنی سے ہے۔ لائن آف کنٹرول عبور کرکے وہ آزاد کشمیر کے ضلع حویلی کے جس گاؤں پہنچی ہیں، اس کا نام بھی کرنی ہے۔

 پولیس کا کہنا ہے کہ فاطمہ کے دادا کی زمین بھی آزاد کشمیر کے اسی گاؤں میں ہے، وہ 1947 میں گاؤں کے اس حصے میں منتقل ہوئے تھے جو اب مقبوضہ جموں و کشمیر کی حدود میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنیوالے 2 نوجوان بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید

اگرچہ حویلی کی پولیس یہ تسلیم کرتی ہے کہ فاطمہ بی بی کو گرفتار کرکے جوڈیشل لاک اپ میں رکھا گیا ہے، لیکن پولیس یہ بتانے سے گریز کررہی ہے کہ فاطمہ نے لائن آف کنٹرول کیوں عبور کی۔

مظفرآباد میں ایک سینیئر پولیس افسر نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فاطمہ بی بی نے یہ بیان دیا تھا کہ انہوں نے اپنے رشتہ دار عمران میر سے شادی کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول عبور کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فاطمہ بی بی جس نوجوان  کے ساتھ شادی کرنے کے لیے آئی ہے، وہ حال ہی میں سعودی عرب سے اپنے گھر واپس آیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مقامی پولیس کو چاہیے تھا کہ وہ لڑکی اور لڑکے کو عدالت میں پیش کرکے ان کی بیان ریکارڈ کراتے اور ان کو شادی کرنے کی اجازت دیتے، لیکن اس کے بجائے انہوں خاتون اور لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے علاقے جہاں شادی بیاہ کی دلچسپ قدیم روایات اب بھی زندہ ہیں

وی نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق، آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والا نوجوان عمران میر سعودی عرب میں ایک ساتھ محنت مزدوری کرتا ہے، فاطمہ بی بی کا بھائی بھی وہاں اس کے ساتھ کام کرتا ہے اور یہ دونوں قریبی عزیز  ہے۔

عمران میر کا سعودی عرب میں رہتے ہوئے بھارت کے زیرتسلط مقبوضہ جموں و کشمیر میں فاطمہ اور دیگر عزیز و اقارب سے واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ ہوا، فاطمہ بی بی اور عمران میر اکثر فون پر بات کرتے تھے اور ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے۔

 فاطمہ بی بی نے محبت کی خاطر اور عمران میر سے  شادی کرنے کے لیے لائن آف کنٹرول عبور کی، یہ سفر مشکل اور خطرناک تھا کیونکہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج تعینات ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فاطمہ نے اتوار کی رات لائن آف کنٹرول پار کی ۔ بھارت کے زیر انتظام میں بھی بغیر اجازت لائن آف کنٹرول پار کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

کراچی: لی مارکیٹ میں کھدائی کے دوران 2 مجسمے برآمد، ماہرین نے تحقیق شروع کر دی

خیبر پختونخوا میں 27 جولائی تک بارشوں اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

سوشل میڈیا نے تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیا، لوگ صرف ٹرینڈز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جاوید اختر

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب