سوشل میڈیا پر صحافیوں کو دھمکیاں، پی ایف یو جے کی مذمت، کارروائی کا مطالبہ

منگل 10 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) نے سیاسی جماعت کی طرف سے صحافیوں کو دھمکیاں دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے دھمکیوں کا نشانہ بننے والے صحافیوں اور اینکر پرسنز کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، سیکریٹری جنرل ارشد انصاری نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان تسلسل سے سوشل میڈیا پر سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز طلعت حسین، منیب فاروق، حسن ایوب اور مزمل شاہ کے خلاف پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔

پی ایف یو جے کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کی ٹیم گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال کرتی ہے اور اس میں پی ٹی آئی کے متعدد پیروکار شامل ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ان میڈیا پرسنز کی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھیں: صحافیوں کو ہراساں کرنے کا کیس، آئینی بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت جاری کردی

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کو دھمکیاں تشویشناک ہیں، اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پی ایف یو جے کی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ ان عناصرکے پیچھے مجرموں کی نشاندہی کرنا بہت ضروری ہے، تاہم ایف آئی اے سے بھی فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید برآں، انہوں نے پی ٹی آئی کی قیادت پر زور دیا کہ وہ اظہار رائے اور اختلاف رائے کی آزادی کا احترام کریں، جو کہ ایک صحت مند معاشرے اور مضبوط جمہوری اصولوں کے لیے ضروری ہے۔

تاہم، پی ایف یو جے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں کو کنٹرول کرنا چاہیے اور ٹی وی اینکرز اور صحافیوں کے خلاف میڈیا مخالف اور ٹرولنگ مہم کو دبانا چاہیے۔

صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے کا نوٹس لیا ہے، وزیر اطلاعات عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے کا نوٹس لیا ہے، اس مہم میں ملوث کرداروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا، ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔

مزید پڑھیں: صحافیوں کیخلاف مہم میں ملوث افراد کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی، عطا تارڑ

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف صحافیوں کو ہراساں کرنے والوں کی حمایت کررہی ہے جس کی پی ایف یو جے نے مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اطلاعات اس کا نوٹس لیا ہے، صحافیوں کے پتے اور ان کے بچوں کی نام اور تصویروں کے ساتھ تفصیلات شیئر کرکے یہ کہنا کہ انہیں نقصان پہنچاؤ، خود تو انہوں نے ڈی چوک سے دوڑ لگا دی، میرا ان سے یہی سوال ہے کہ ڈی چوک سے دوڑ کیوں لگائی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام

ایپسٹین اسکینڈل کی گونج برطانیہ تک، سابق سفیر مینڈلسن سے جواب طلب

آلو کے کاشتکاروں کے لیے خوشخبری: مریم نواز کا وزیراعظم شہباز شریف کو برآمدات بڑھانے کے لیے خط

گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی یونٹ فعال، خصوصی تھانہ قائم

غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟