غزہ پر خاموشی قبول نہیں، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول میں شرکت سے انکار

ہفتہ 14 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی مصنفہ اور معروف ناول نگار ارون دھتی رائے نے اسرائیل کی غزہ کے خلاف جاری جنگ سے متعلق برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی جیوری کے بیانات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے میلے سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر میں شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں، عالمی شہرت یافتہ ادیب نے جیوری ارکان کے بیانات کو ’ناقابلِ معافی‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے کشمیر پر حقائق چھپانے کے لیے 25 کتابوں پر پابندی لگادی

اروندھتی رائے نے خاص طور پر برلنالے کی جیوری کے سربراہ اور معروف جرمن ہدایتکار وم وینڈرز کے اس بیان پر تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہیے اور فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔

ارون دھتی رائے نے اس مؤقف کو چونکا دینے والا قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس طرح کے بیانات دراصل انسانیت کے خلاف جاری جرم پر گفتگو کو دبانے کی کوشش ہیں۔

’یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک ایسے جرم پر بات چیت بند کر دی جاتی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔‘

شہرۂ آفاق ناول ’دی گاڈ آف اسمال تھنگس سمیت متعدد ادبی اور غیر افسانوی کتب کی مصنفہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ جاری ہے وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے۔

مزید پڑھیں: جی 20 اجلاس : ایسا لگتا ہے بھارتی حکومت کے بجائے بی جے پی اس سمٹ کی میزبان ہو، ارون دھتی رائے

ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کو امریکا اور جرمنی سمیت کئی یورپی حکومتوں کی مالی اور سیاسی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث یہ ممالک بھی اس جرم میں شریک سمجھے جائیں گے۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فیسٹیول کے افتتاحی پینل کے دوران ایک صحافی نے جیوری ارکان سے جرمن حکومت کی غزہ سے متعلق پالیسی اور انسانی حقوق کے ’انتخابی اطلاق‘ پر سوال کیا۔

اس پر وِم وینڈرز نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم سازوں کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے، جبکہ پولش فلم پروڈیوسر ایوا پُشچِنشکا نے سوال کو ’کسی حد تک غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم ساز حکومتوں کی پالیسیوں کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں دیگر جنگیں بھی جاری ہیں جن پر اس شدت سے بات نہیں کی جاتی۔

اروندھتی رائے کا کہنا ہے کہ فنکاروں، ادیبوں اور فلم سازوں کو غزہ میں جاری جنگ روکنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہییں۔

وہ اس سال 12 سے 22 فروری تک جاری رہنے والے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کرنے والی تھیں، جہاں ان کی 1989 کی فلم کو کلاسکس سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم تازہ پیش رفت کے بعد انہوں نے اپنی شرکت منسوخ کر دی ہے۔

جرمنی، جو امریکا کے بعد اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ فلسطین کے حق میں اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: عالمی شہرت یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ چلانے کی منظوری

2024 میں 500 سے زائد بین الاقوامی فنکاروں، فلم سازوں اور ادیبوں نے جرمن سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ثقافتی اداروں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا مؤقف تھا کہ ان اداروں میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جو آزادیِ اظہار کو محدود کرتی ہیں اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔

اروندھتی رائے کی دستبرداری نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا فن کو سیاست سے جدا رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اور کیا عالمی ثقافتی پلیٹ فارمز انسانی حقوق کے معاملات پر غیر جانب دار رہ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار