تحریک انصاف کے مزید کتنے لوگ لاپتہ ہیں، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تعداد بتادی

جمعہ 3 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں ہونے والے وزیراعظم کی زیرصدات اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ 26 نومبر کے دھرنے کے بعد ہمارے 45 لوگ لاپتہ ہیں۔

انہوں نے میڈیا کے نمائںدوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں وزیراعظم کا یہ کہنا کہ اس دن کچھ نہیں ہوا، مناسب نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دھرنا دینے پر ہمارے خلاف جس طرح رویہ اپنایا گیا اس پر ہمارے تحفظات ہیں اور حکومت کو اس قسم کے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس معاملے کو جانے نہیں دیں گے۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ افغانستان سے حکومتی سطح پر بات ہورہی ہے لیکن ہمیں اگر جرگہ کا موقع دیا جائے تو یہ اچھی کوشش ہوگی اور ہم اس میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق ایپکس کمیٹی کا اجلاس شروع

ضلع کرم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایک صدی سے چل رہا ہے مگر ہم نے کوشش کی اور مشران نے  بہت کام کیا اس لیے امن معاہدہ طے پایا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ حل ہوگا اور پاڑہ چنار جانے والا راستہ بہت جلد کھلے گا۔

ملک میں دہشت گردی کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ جب سے ہماری وفاقی حکومت گئی ہے، دہشت گردی پھیلی ہے کیوں کہ موجودہ وفاقی حکومت کی پالیسی غلط ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی پالیسی درست تھی اس لیے ان کے دور میں امن تھا۔

انہوں نے فوجی آپریشنز کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور دہشت گردی کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا ہم اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

گزشتہ روز 9 مئی کے واقعات میں ملوث 19 مجرموں کی سزاؤں کی معافی پر رائے دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جن کو چھوڑا گیا، ان کی سزائیں مکمل ہونے کے قریب تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کا کام یہ نہیں کہ ڈنڈا لے کر میرا حق چھینے بلکہ ریاست کا کام اپنے لوگوں کو مطمئن کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp