صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز کی ملاقات پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا اہم بیان

جمعہ 26 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں 2025 کی اہم کامیابیوں کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ پوسٹ میں انہوں نے بھارت کے خلاف اہم فوجی اور سفارتی اقدامات، سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے دفاعی معاہدے، اور پاک امریکا تعلقات میں نمایاں پیشرفت کا ذکر کیا ہے۔

خواجہ آصف نے لکھا کہ ’2025 کامیابیوں سے بھر پور سال رہا، الحمدللہ۔ ہائبرڈ نظام کی پارٹنر شپ کی کامیابیوں کا تسلسل جاری ہے۔ اللہ اکبر۔‘

پوسٹ کے ساتھ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی امریکی صدر کے ساتھ ملاقات کی تصویر بھی شیئر کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں خطے میں سلامتی، عسکری تعاون اور دفاعی شراکت داری کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: وائٹ ہاؤس: وزیراعظم اور امریکی صدر کے درمیان اہم ملاقات ختم، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے

سوشل میڈیا پر وزیر دفاع کا بیان پاکستان کی دفاعی اور سفارتی پالیسیوں میں 2025 کے نمایاں سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی توازن اور بین الاقوامی تعلقات کی مضبوطی پر زور دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر کے عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال مسترد کردی

پاک چین دوستی ہر آزمائش میں سرخرو رہی، سی پیک ترقی و خوشحالی کی علامت ہے، عطا اللہ تارڑ

سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، اسٹاک مارکیٹ کھلتے ہی 2 ہزار پوائنٹس کا اضافہ

کیا اب Siri AI آپ کی پرانی چیٹس اور چھپی معلومات بھی نکال لے گا؟ ایپل نے سب کو حیران کر دیا

تیزاب گردی کے مجرموں کے لیے سزائے موت کی تجویز، قومی اسمبلی میں ترمیمی بل جمع

ویڈیو

پی ٹی آئی حکومت اختلافات کا شکار، کارکردگی صفر، پشاور کے شہریوں کی رائے

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو مشکلات، کیا ناراض اراکین بجٹ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں؟

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب، مسلم لیگ ن کو شکست کی وجہ کیا بنی؟

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟