شیر افضل مروت میرے وکیل نہیں، جیل میں داخل نہ ہونے دیا جائے، عمران خان نے انتظامیہ کو آگاہ کردیا

جمعرات 23 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل انتظامیہ اور عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ شیر افضل مروت ان کے وکیل نہیں ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان نے جیل انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ شیر افضل مروت کو جیل میں داخل نہ ہونے دیا جائے کیونکہ وہ ان کے وکیل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں ’عمران خان نے پارٹی سے نکالنا ہے تو بے شک نکال دیں‘ شیر افضل مروت

بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنما شیر افضل سے متعلق اپنی تحریر بھی لکھوا دی ہے۔

واضح رہے کہ شیر افضل مروت آج عمران خان سے ملنے کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تھے، تاہم انہیں واپس بھیج دیا گیا۔

شیر افضل مروت جب اڈیالہ جیل پہنچنے تو انتظامیہ کی جانب سے عمران خان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ ان سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں عمران خان کو رہا کرنے کی آفر محسن نقوی نے کی تھی، شیر افضل مروت کا اہم انکشاف

واضح رہے کہ شیر افضل مروت کا پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ہر معاملے پر اختلاف رائے ہوتا ہے، حال ہی میں انہوں نے سلمان اکرم راجہ کو پی ٹی آئی کا سیکریٹری جنرل ماننے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد انہیں شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کفایت شعاری مہم: صدر مملکت نے یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کی منظوری دیدی

اسپتال پر حملے میں 400 ہلاکتوں کا دعویٰ، افغان میڈیا نے طالبان رجیم کا جھوٹ بے نقاب کردیا

اسپتال پر حملے کا دعویٰ جھوٹ، افغانستان پوزیشن واضح کرے دہشتگردوں کے ساتھ کھڑا ہے یا پاکستان کے ساتھ، عطا تاڑ

حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کو غیر ملکی سرمایہ کاروں تک توسیع دے دی

جہاں جہاں اور جس چیز سے ملک کو خطرہ ہے اسے ختم کرنا پاکستان کا حق ہے، بیرسٹر گوہر

ویڈیو

دہشتگردوں کا نیا پروپیگنڈا، ٹرمپ عالمی تنہائی کا شکار ہوگئے

کسی بھی مسئلے پر زیادہ سوچنا پیچیدہ مسئلہ ضرور، لیکن اس کا آسان حل کیا ہے؟

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا