خیبر پختونخوا حکومت نے ٹریفک پولیس کی تجویز پر پشاور میں بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے رکشوں کے لیے اوقات کار مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے رکشوں کو مخصوص رنگ دیے جائیں گے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک کا مسئلہ سنگین ہو چکا ہے، اور گرمیوں میں ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پشاور میں ٹریفک جام اور رش کی سب سے بڑی وجہ رکشے ہیں، جو زیادہ تر بغیر پرمٹ کے چل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں آسٹریلین کرکٹ پریزینٹر کو پاکستانی رکشے کی سواری بھا گئی
اس منصوبے کے تحت رکشوں کو مخصوص رنگ دے کر ان کے لیے اوقات کار مقرر کیے جائیں گے۔ ٹریفک پولیس کی تجویز پر صوبائی حکومت نے باقاعدہ کام شروع کردیا ہے۔
ایک سرکاری آفیسر نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کررہے ہیں، آفیسر کے مطابق کمیٹی ٹریفک پولیس کی تجویز پر عملدرآمد کرےگی اور رکشوں کے لیے رنگ اور اوقات کار طے کرےگی۔
ذرائع کے مطابق پرمٹ والے رکشوں کو سبز رنگ دیا جائےگا، جنہیں 24 گھنٹے چلنے کی اجازت ہوگی، اور ان کی تعداد 16 ہزار 371 ہے۔
’سرخ اور زرد رنگ کے لیے مخصوص اوقات کار‘
ذرائع نے بتایا کہ بغیر پرمٹ رکشوں کو سرخ اور زرد رنگ دیے جائیں گے، جو مخصوص اوقات میں ہی سڑکوں پر چل سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق قریباً 30 ہزار غیر رجسٹرڈ رکشوں کو سرخ رنگ دیا جائےگا، جنہیں صبح 6 بجے سے دوپہر 2 بجے تک چلنے کی اجازت ہوگی۔ جبکہ دیگر 30 ہزار بغیر پرمٹ رکشوں کو زرد رنگ دیا جائے گا، جنہیں دوپہر 2 بجے سے رات 12 بجے تک چلانے کی اجازت ہوگی۔
ٹریفک پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ پشاور شہر میں 60 ہزار سے زیادہ رکشے غیر رجسٹرڈ یا بغیر پرمٹ کے چل رہے ہیں، جو ٹریفک کے لیے بڑے مسائل کی وجہ ہیں۔ ان کے مطابق غیر رجسٹرڈ رکشوں کو مخصوص اوقات میں چلانے سے ٹریفک کے مسائل میں کچھ حد تک کمی آئے گی۔
انہوں نے مزید کہاکہ 60 ہزار رکشے 60 ہزار خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ ہیں، اس لیے کسی بھی کارروائی میں یہ پہلو مدنظر رکھا جائے گا۔ اگر 30 ہزار رکشے کم ہوگئے تو ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں ’الیکٹرک بائیکس اور رکشے‘، حکومت نے پنجاب کے شہریوں کو خوشخبری سنادی
ان کا کہنا تھا کہ نئے اوقات کار لاگو ہونے کے بعد خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید یہ کہ ڈرائیوروں کو 8 گھنٹے کے اوقات میں مناسب آمدنی کا موقع بھی ملے گا اور آرام کا بھی وقت دستیاب ہوگا۔














