عالمی میڈیا کی نظر میں پاک-بھارت سیزفائر، امن یا خاموش طوفان؟

پیر 12 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک بھارت حالیہ سیز فائر کے فوراً بعد بین الاقوامی میڈیا نے اس پیشرفت کو گہرے تجزیوں، شکوک و شبہات اور سفارتی اشاروں کی نظر سے دیکھا۔ گارڈین سے لے کر الجزیرہ، ٹائم میگزین، دی اکانومسٹ اور واشنگٹن پوسٹ تک سب نے ایک بات پر زور دیا کہ یہ امن اگر برقرار رہا، تو اصل معرکہ بیانیے کا ہوگا۔

گارڈین: یہ بیانیے کی جنگ ہے

گارڈین کے سیکیورٹی نمائندے جیسن برک نے لکھا کہ یہ امن اگر قائم رہا، تو اگلے ہفتوں میں بیانیے کی جنگ چھڑ جائے گی۔ واشنگٹن کی سفارت کاری نے کشیدگی میں کمی کی، جو روس اور چین کو خوش نہیں آئے گی۔ گارڈین نے مزید کہا کہ اس مرتبہ معاشی نقصانات نے دونوں ممالک کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

الجزیرہ: طاقت دکھانا چاہی، کمزوری عیاں ہو گئی

الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر کی طرف سے سیز فائر کا اعلان بھارت میں کچھ حلقوں کی نظر میں مودی سرکار کی پسپائی کے طور پر دیکھا گیا۔ بھارت کی تیسری پارٹی کی مداخلت سے انکار کی روایت کمزور ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: سیز فائر کا اعلان کیوں کیا؟ سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کو بھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیاں

دی وائر: سفارتکاری نے راہ نکالی

دی وائر نے لکھا کہ بظاہر دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان براہ راست بات چیت سے سیز فائر طے پایا، مگر اصل پس منظر واشنگٹن کی پشت پناہی میں ہونے والا سفارتی عمل ہے۔

اسکائی نیوز: مہنگی غلطی سے بال بال بچے

سیز فائر پچھلے دو ہفتوں کے واقعات کو ختم نہیں کرتا۔ یہ عسکری کارروائی گزشتہ دہائیوں کی سب سے سنگین تھی۔ دونوں ملک مہنگی غلطی سے بال بال بچے۔

ٹائم میگزین: خلیجی ریاستیں اصل کھلاڑی

ٹائم نے نشاندہی کی کہ اب صرف اقدار نہیں، مفادات فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ بھارت خلیج میں نمایاں معاشی قوت بن چکا ہے، اور یہ پاکستان کے پرانے تصوراتی رشتوں کو چیلنج کر رہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ: شک و شبہ کی فضا

واشنگٹن پوسٹ کا تجزیہ ہے کہ امریکا کی ثالثی پر کئی حلقے مشکوک ہیں۔ دونوں ممالک نے باضابطہ طور پر امریکی کردار کو تسلیم نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، یہ خواہش بھارت کی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر

اکانومسٹ: خاموشی کے پیچھے خطرہ

اکانومسٹ کا کہنا ہے کہ یہ سیزفائر وقتی ہے۔ بھارت نے گہرے حملوں کی پالیسی اپنائی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگلی جھڑپ زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

سیز فائر ہوا، جنگ ٹلی مگر عالمی میڈیا کے مطابق امن اب صرف میزائلوں کی خاموشی نہیں، بلکہ بیانیے کی جنگ میں کامیابی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ نیا محاذ ہے۔ حقیقت کو دنیا کے سامنے واضح انداز میں پیش کرنا، اور جھوٹے الزامات کا توڑ عالمی سطح پر مؤثر بیانیے سے دینا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا