جنوبی ایشیا میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہے، بلاول بھٹو زرداری

جمعرات 5 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں مصروف ترین دن گزارا، جہاں وفد نے امریکی کانگریس کے متعدد ارکان سے ملاقاتیں کیں اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی، کشمیر، اور علاقائی سلامتی کے امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

وفد نے امریکی اراکین کانگریس کو حالیہ بھارتی فضائی جارحیت، اس کے نتیجے میں عمل میں آنے والی جنگ بندی، اور بھارت کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز بیانات کے تناظر میں علاقائی امن کو درپیش خطرات پر بریفنگ دی۔ بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنا اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

پاکستانی وفد نے امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے شریک چیئرمین جیک برگ مین اور ٹام سوازی سمیت دیگر ارکان سے ملاقات کی، جس میں علاقائی امن، انسداد دہشتگردی کی کوششوں اور پاکستان کے اصولی مؤقف پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن یک طرفہ اقدامات اور جارحیت کے بجائے ڈائیلاگ، سفارت کاری اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑا ہے۔ انہوں نے بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

وفد نے امریکی سینیٹر ایلیسا سلوٹکن، رکن کانگریس سڈنی کملاگرڈو، ٹام کین جونیئر، کانگریس مین جان مولینار، سینیٹر جم بینکس، سینیٹر وان ہولن اور سینیٹر کوری بوکر سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، جن میں جموں و کشمیر کے تنازعے کے منصفانہ حل اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے گفتگو میں کہا کہ بین الاقوامی برادری بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کا فوری نوٹس لے، کیونکہ یہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کا خواہاں ہے، اور اس ضمن میں امریکی دلچسپی اور کوششوں کو سراہتا ہے۔

دوران ملاقات بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی روابط کو دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور عوامی فلاح کے لیے ایک اہم پل قرار دیا۔ امریکی کانگریس اراکین نے بھی پاکستان کے اقتصادی استحکام اور علاقائی امن کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔

وفد نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام، انسداد دہشت گردی، اور مذاکرات کے فروغ سے متعلق پاکستان کی پالیسی سے امریکی قیادت کو آگاہ کیا، اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں