وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے اعلان کیا کہ فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان کسی باضابطہ ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
یہ بات ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل کہا تھا کہ ’اگلے ہفتے ایران سے بات ہو سکتی ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا:1953 کی بغاوت سے 2025 کے حملوں تک
ترجمان نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ابھی تک کوئی ملاقات شیڈول نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ قائم ہے۔
ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق ہم ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں، اور اگر کوئی ملاقات طے پاتی ہے تو ہم میڈیا کو ضرور آگاہ کریں گے۔

لیوٹ نے مزید بتایا کہ انہوں نے جمعرات کی صبح امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف سے بھی اس حوالے سے بات کی ہے۔
وٹکوف نے پہلے ہی ہفتے میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ان کی بات چیت ’حوصلہ افزا‘ رہی ہے اور وہ ’ایک طویل مدتی امن معاہدے‘ کے بارے میں پرامید ہیں، جو ایران کو دوبارہ تعمیر کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہوں گے، صدر ٹرمپ
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے بدھ کی شب دی ہیگ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے دوران صحافیوں کو آگاہ کیا تھا کہ ہم اگلے ہفتے ایران سے بات کریں گے۔ شاید کوئی معاہدہ بھی ہو جائے۔ اگر ہم کوئی دستاویز حاصل کر لیں تو برا نہیں ہو گا۔ درحقیقت ہم ان سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔

تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر بات چیت ہوتی ہے تو کون نمائندگی کرے گا۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کا این پی ٹی سے نکلنے کا عندیہ، فرانس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
گزشتہ ہفتے یہ مسئلہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب امریکا نے ایران کے 3 جوہری مراکز پر بمباری کی۔ یہ کارروائی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو روکنے کے لیے کی گئی تھی۔














