ڈاکٹر عثمان انور کی بطور آئی جی پنجاب اچانک تبدیلی کی وجہ کیا بنی اور راؤ عبدالکریم کی تعیناتی کا فیصلہ کس کا ہے؟

منگل 3 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب حکومت نے انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کر کے سینیئر پولیس آفیسر راؤ عبدالکریم کو نیا آئی جی پنجاب لگا دیا گیا ہے۔

یہ تبدیلی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد منظور کی گئی، ڈاکٹر عثمان انور  نے پنجاب میں 3 سال بطور آئی جی کام کیا، سرکاری ذرائع کے مطابق یہ معمول کی انتظامی تبدیلی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کچے میں آپریشن بھرپور طاقت سے جاری رہے گا، جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، آئی جی پنجاب

سینیئر صحافی گوہر بٹ کے مطابق، یہ فیصلہ براہ راست وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ہے، جنہوں نے وزیر اعظم سے مشاورت کر کے اسے حتمی شکل دی۔ گوہر بٹ کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے پاس مکمل اختیارات ہیں اور راؤ عبدالکریم کو ایک اچھے افسر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آئی جی کی دوڑ میں بلال صدیق کمیانہ بھی شامل تھے، لیکن مریم نواز نے راؤ عبدالکریم کو نیا آئی جی پنجاب لگانے کی سفارش کی۔

ان کا کہنا ہے کہ نئے آئی جی پنجاب بہت اچھے آفیسر ہیں انہوں نے محکمہ پولیس کو بہتر بنانے کافی کام کیے ہیں، پنجاب حکومت کے کچھ لوگوں نے بلال صدیق کمیانہ کو نیا آئی جی پنجاب لگانے کی سفارش کی مگر مریم نواز نے راؤ عبدالکریم کو نیا آئی جی پنجاب لگانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد آج ان کا نوٹیفیکشن بطور آئی جی جاری کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عثمان انور کب آئی جی پنجاب لگائے گئے؟

ڈاکٹر عثمان انور جو ایک میڈیکل ڈاکٹر سے پولیس آفیسر بنے، پولیس سروس آف پاکستان کے 23ویں کامن سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے جنوری 2023 میں نگران حکومت کے تحت بڑی بیوروکریٹک تبدیلی کے دوران آئی جی پنجاب کا عہدہ سنبھالا۔ اس سے پہلے، وہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے) لاہور کے ڈائریکٹر اور نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

محکمہ پولیس کے مطابق ڈاکٹر عثمان انور نے  پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی، جدید سہولیات، اور افسران کی ویلفیئر میں بہتری جیسے بہت سے کام کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: این سی سی آئی اے کرپشن اسکینڈل، 4 افسران کے استعفے منظور

ڈاکٹر عثمان انور تقریباً 3 سال آئی جی پنجاب رہے ہیں جو پچھلے آئی جی پیز کے مقابلے میں غیر معمولی تھی، پچھلے آئی جی پیز محمد طاہر (2018) اور کیپٹن عارف نواز خان (2019) کو حکومت کی ہدایات سے مطابقت نہ رکھنے اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہٹا دیے گئے۔

 حکومتی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ  مریم نواز کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد ہوا۔ راؤ عبدالکریم، جو پہلے ایڈیشنل آئی جی کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کو دیگر امیدواروں بشمول سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ایڈیشنل آئی جی کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ وسیم سیال پر ترجیح دی گئی۔

ڈاکٹر عثمان انور کو نیا  ڈی جی ایف آئی اے تعینات کرنے کا نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سفید جادو، مثبت اور مددگار

متحدہ اپوزیشن کی تشکیل پر اتفاق: کیا مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں یہ اتحاد حکومت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے؟

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘