’میرے ساتھ ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟‘، اسپنر اسامہ میر پی سی بی کے رویے پر پھٹ پڑے

جمعہ 8 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لیگ اسپنر اسامہ میر نے کہا ہے کہ اگر انہیں کسی دوسرے ملک سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی پیشکش موصول ہوئی تو وہ اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ قومی ٹیم میں نظر انداز کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کیریئر غیر یقینی میں نہیں رکھ سکتے۔

سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ اسپنر نے حال ہی میں انگلینڈ کے ووسٹرشائر کاؤنٹی کرکٹ کلب سے 3 سالہ ٹی20 معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت وہ 2026 میں غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر جبکہ 2027 سے مقامی پلیئر کے طور پر کھیلنے کے اہل ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پی سی بی کا اسامہ میر کو غیر ملکی لیگ کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار

ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے اسامہ میر نے کہا کہ کرکٹر کا کام کرکٹ کھیلنا ہے۔ اگر کسی بھی ملک سے اعلیٰ سطح پر کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو انکار نہیں کروں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی ٹیم میں مسلسل نظر انداز کیے جانے پر افسوس ہے۔ صرف ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر غیر یقینی کا شکار نہیں رہ سکتا۔ اگر بیرونِ ملک معیاری کرکٹ کے مواقع ملیں گے تو بھرپور فائدہ اٹھاؤں گا۔

واضح رہے کہ اسامہ میر پاکستان کی جانب سے اب تک 12 ون ڈے اور 5 ٹی20 انٹرنیشنل میچز میں نمائندگی کرچکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ

ورلڈ کپ سے پہلے ہی شائقین کا طوفان، فیفا کو ٹکٹوں کی تاریخ ساز ڈیمانڈ کا سامنا

ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

مچل اسٹارک آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار، دسمبر 2025 کا اعزاز آسٹریلوی فاسٹ بولر کے نام

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

ویڈیو

‘انڈس اے آئی ویک’ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی طرف ایک قدم

دینی اور دنیوی تعلیم کی روشنی پھیلانے والے جامعہ اشرفیہ کے نابینا مدرس و مدیر انگریزی رسالہ

بسنت منانے کی خواہش اوورسیز پاکستانیوں کو بھی لاہور کھینچ لائی

کالم / تجزیہ

یہ اظہارِ رائے نہیں، یہ سائبر وار ہے

دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

’شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو‘