بنگلہ دیش نے پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے اقوامِ متحدہ کے تحت تیار کیے جانے والے عالمی معاہدے کے تازہ مسودے کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پلاسٹک آلودگی کے خلاف عالمی معاہدہ، جنیوا میں مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مسودہ کمزور ہے، اس میں پلاسٹک کی پیداوار اور نقصان دہ کیمیکلز پر پابندی جیسے اہم اقدامات شامل نہیں ہیں، اور یہ پلاسٹک کے پورے لائف سائیکل کو نہیں دیکھتا۔
یہ اعلان جنیوا میں بین الحکومتی مذاکراتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

بنگلہ دیش نے کہا کہ مسودہ صحت پر اثرات، کیمیکلز کے خطرات اور سرحد پار پلاسٹک آلودگی کو کم کرنے کے لیے کوئی مضبوط قانون نہیں بناتا۔
یہ بھی پڑھیں:مائیکروپلاسٹکس انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہیں؟
اس میں زیادہ تر اختیاری اقدامات شامل ہیں، جو موجودہ بحران کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔
وزارت ماحولیات نے واضح کیا کہ بغیر بڑے اور معنی خیز ترمیمات کے بنگلہ دیش اس مسودے کی حمایت نہیں کرے گا۔

اسی دن ایک اجلاس میں مشیر سیدہ رضوانہ حسن نے پلاسٹک آلودگی سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون، سرکلر اکانومی کے فروغ اور نقصان دہ پلاسٹک کو ختم کرنے پر زور دیا۔














