نیشنل میوزیم آف کمبوڈیا میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں گندھارا تہذیب کے مشہور ’فاسٹنگ بدھ‘ کے مجسمے کی نقل کی باضابطہ رونمائی کی گئی۔
یہ تاریخی تحفہ پاکستان کی جانب سے کمبوڈیا کو پیش کیا گیا تھا۔ تقریب میں وزارتِ ثقافت و فنون کے تعاون سے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا تھائی لینڈ کو بھی ’ فاسٹنگ بدھا‘ کے تاریخی مجسمہ کا تحفہ
پاکستان کے سفیر ظہیرالدین بابر تھہیم نے یہ قیمتی تحفہ کمبوڈیا کی وزیر برائے ثقافت و فنون عالیہ فیرونگ ساکونا کو پیش کیا۔ اس موقع پر وزیر ثقافت نے کہا کہ یہ نایاب تحفہ دونوں ممالک کی مشترکہ وراثت، دوستی اور عقیدت کی علامت ہے جو کمبوڈیا کی بدھ مت روایات کو پاکستان کی قدیم گندھارا تہذیب سے جوڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کو بے حد قیمتی سمجھتا ہے، یہ تعلقات امن، خوشحالی اور باہمی فہم پر مبنی ہیں۔ یہ ثقافتی تبادلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقیقی سفارتکاری صرف سیاسی یا معاشی تعاون تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی اقدار اور روحانی روایات کے تبادلے سے بھی پروان چڑھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بدھ مت سے منسوب قیمتی جواہرات کی ہانگ کانگ میں نیلامی منسوخ، 127 سال بعد بھارت واپس پہنچ گئے
پاکستانی سفیر بابر تھہیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’فاسٹنگ بدھ‘ مجسمہ خود شناسی اور روحانی بیداری کا استعارہ ہے، جو انسانیت، امن اور اتحاد جیسے ابدی اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ اقدار پاکستان اور کمبوڈیا کے عوام کے دلوں میں یکساں طور پر گونجتی ہیں اور ہمارے تعلقات کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
یہ شاہکار مجسمے کی نقل اب نیشنل میوزیم آف کمبوڈیا میں نمائش کے لیے رکھ دی گئی ہے تاکہ عوام اس مشترکہ تاریخی و روحانی ورثے سے براہ راست جڑ سکیں۔ گزشتہ دنوں ایسے ہی مجسمے ویتنام اور تھائی لینڈ کو بھی تحفے میں پیش کیے گئے تھے۔














