معروف مذہبی اسکالر انجینیئر مرزا محمد علی کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
تھانہ سٹی جہلم میں انجینئر محمد علی مرزا پہ توہین رسالت 295C کی FIR درج
— Ammar Khan Yasir (@ammarkhanyasir) August 26, 2025
انجینیئر مرزا محمد علی کے خلاف مقدمہ شہری عمیر علی کی درخواست پر درج کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے اسکالر پر توہین رسالت کا الزام عائد کیا۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ انجینیئر مرزا محمد علی نے ایک ویڈیو بیان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مین گستاخی کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات انجینیئر مرزا محمد علی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کرتے ہوئے ان کی اکیڈمی سیل کردی گئی تھی۔
ڈپٹی کمشنر جہلم کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر انجینیئر مرزا محمد علی کی گرفتاری کے احکامات دیے، تاہم اب اسکالر کے خلاف 295 سی کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
محمد علی مرزا پہلے بھی گرفتار ہوئے تھے
انجینیئر محمد علی مرزا پہلی مرتبہ گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔ وہ اس سے پہلے سنہ 2020 میں بھی گرفتار ہوئے تھے۔ انہیں 4 مئی 2020 کو ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے انہیں اپنی تقاریر میں مبینہ طور پر نفرت انگیزی پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ اگرچہ عدالت نے ان کا 14 روزہ ریمانڈ دیا تھا تاہم گرفتاری کے 2 دن بعد ہی عدالت کے حکم پر انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔
سنہ 2023 میں ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت توہین مذہب کے مقدمے کا اندراج بھی ہوا۔
مرزا محمد علی پر قاتلانہ حملہ
مارچ 2021 میں مرزا ایک قاتلانہ حملے میں اس وقت بال بال بچے جب ایک حملہ آور نے ان کی اکیڈمی کے اندر انہیں چھرا گھونپنے کی کوشش کی۔ مرزا معمولی زخمی ہوئے جبکہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔
میکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے اور سرکاری ملازمت کرنے والے محمد علی مرزا نے اپنے آن لائن لیکچرز اور مباحثوں کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ ان کا کھلا اور بیباک انداز اکثر تنازع کا باعث بنا۔
یہ بھی پڑھیں: معروف اسکالر انجینیئر محمد علی مرزا تھری ایم پی او کے تحت گرفتار، اکیڈمی سیل
ان کا یوٹیوب چینل جس پر مذہب، تاریخ اور معاشرتی موضوعات پر بحث کی جاتی ہے اب 30 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز کے ساتھ پاکستان میں اسلامی اسکالرز میں سب سے بڑے پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے۔














