اسٹریپ تھروٹ یعنی گلے کی سوجن اور درد والی یہ عام بیماری دنیا بھر میں لاکھوں بچوں کو متاثر کرتی ہے لیکن کچھ بچوں میں یہ بیماری ایک ایسے صدمے کا باعث بن سکتی ہے جو نہ صرف ان کی ذہنی حالت بلکہ پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسکول سے لگاؤ نوعمر بچوں کو بُلنگ سے ہونے والے ڈپریشن سے بچا سکتا ہے
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق نومبر 2012 میں 8 ویں سالگرہ کے دن چارلی ڈریوری کی زندگی بدل گئی۔ کیک، تحائف اور پارٹی کے مزے کے باوجود اس کی ماں کیٹ ڈریوری نے نوٹ کیا کہ اس کا بیٹا عجیب رویہ اختیار کر رہا ہے۔ آنکھ پھڑکنے سے آغاز ہوا پھر وہ بار بار ہاتھ سونگھنے لگا۔ بخار ہوا اور کلینک لے جانے پر پتا چلا کہ اسے اسٹریپ تھروٹ ہے۔
لیکن بیماری صرف یہیں ختم نہ ہوئی۔ اگلے چند ہفتوں میں چارلی کا رویہ بالکل بدل گیا۔ خوشبو سے حساسیت اتنی بڑھی کہ ماں کو کھانا پکانا بند کرنا پڑا۔ حتیٰ کہ ماں کا لمس تک ناقابل برداشت بن گیا۔
علاوہ ازیں بچے کی نیند ختم ہوگئی اس نے کھانا چھوڑ دیا، نہانا بند کردیا، چیخیں مارتا، چیزیں پھینکنا اور ہذیانی کیفیت طاری ہوگئی یہاں تک کہ پڑھنے لکھنے کی صلاحیت تک متاثر ہو گئی۔
ایک ماہ کی تکلیف کے بعد ڈاکٹروں نے چارلی کو ایک نایاب بیماری میں مبتلا قرار دے دیا۔ یہ بیماری تھی پیڈیاٹرک آٹو اِمیون نیوروسائیکیٹرک ڈس آرڈرز (پانڈاس) جو اسٹریپٹوکوکل انفیکشنز سے منسلک ہوتے ہیں۔ بچوں میں خودکار مدافعتی (آٹو اِمیون) دماغی و نفسیاتی بیماری جو گلے کے اسٹریپ انفیکشن کے بعد ظاہر ہوتی ہیں اور بچوں میں اسٹریپ انفیکشن کے بعد اچانک دماغی اور رویوں کی تبدیلیاں آجاتی ہیں جیسے کہ جنون کی حد تک صفائی یا سوچنے کی عادتیں، غصہ، بے چینی، موڈ کی تبدیلیاں، نیند اور سیکھنے میں دقت وغیرہ۔
مزید پڑھیے: امریکا میں پہلی مرتبہ گوشت خور پیراسائٹ سے انسانوں کے متاثر ہونے کی تصدیق
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ بچوں میں قوت مدافعت غلطی سے صحت مند دماغی خلیات پر حملہ کر دیتی ہے۔ یہ عمل خاص طور پر بیسل گینگلی کو متاثر کرتا ہے جو حرکت، جذبات، اور سیکھنے سے متعلق ہے۔ بیسل گینگلِیا دماغ کے اندر کچھ مخصوص حصے ہوتے ہیں جو ہمارے جسم کی حرکت، جذبات اور رویے کو قابو میں رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر سوسن سویڈو جنہوں نے سنہ 1990 کی دہائی میں این آئی ایچ میں پہلی بار پانڈاس پر تحقیق کی کہتی ہیں کہ جب غلط قسم کا اسٹریپ انفیکشن کسی حساس بچے کو ہو جائے تو اس کی قوت مدافعت غلطی سے اس کے اپنے ہی دماغ پر حملہ کر بیٹھتی ہے۔
مزید پڑھیں: وہ حیرت انگیز غذائیں جو نیند کو بہتر بناتی ہیں!
اگر اسٹریپ انفیکشن کی شناخت نہ ہو سکے یا اس کے علاوہ کوئی دوسرا وائرس یا بیکٹیریا اس کیفیت کو پیدا کرے تو اسے پی اے این ایس کہتے ہیں یعنی بچوں میں اچانک نمودار ہونے والا دماغی و نفسیاتی عارضہ۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ دیگر وائرس جیسے کووڈ 19، فلو، یا لائم بیماری بھی پی اے این ایس جیسے اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔
علاج کی مشکلات
پانڈاس یا پی اے این ایس کے علاج میں کئی مشکلات درپیش ہوتی ہیں جن میں ڈاکٹروں کی لاعلمی یا انکار، غلط نفسیاتی ادویات اور دیر سے تشخیص شامل ہیں۔
اس کے علاج میں اینٹی بایوٹکس، اسٹیرائڈز، ڈونر اینٹی باڈیز کی تھراپی اور پلازما ایکسچینج شامل ہوتے ہیں۔ کیٹ ڈریوری کے مطابق چارلی کے علاج کے بعد وہ اسے واپس زندگی کی طرف لوٹا۔
لولو جانسن کی المناک کہانی
نیوجرسی کی 11 سالہ بچی لولو جانسن سنہ 2019 میں اچانک پانڈاس کا شکار ہوئی۔ وہ بیمار ہوئی اسٹریپ پایا گیا لیکن تشخیص میں تاخیر، غلط ادویات، اور نظام کی بے حسی نے اس کے حالات کو بدترین بنا دیا۔
سنہ 2021 میں لولو چل بسی۔ اس کی ماں نے اس کی یاد میں ایک فاؤنڈیشن قائم کی اور اس کا دماغ تحقیق کے لیے عطیہ کیا تاکہ دیگر بچوں کی زندگی بچائی جا سکے۔
ابھی کتنا کچھ نامعلوم ہے؟
پانڈاس کی کوئی ایک مخصوص ٹیسٹ سے تشخیص ممکن نہیں، دماغی تبدیلیاں اتنی معمولی ہوتی ہیں کہ ایم آر آئی میں بھی نظر نہیں آتیں، تحقیق محدود ہے اور دنیا بھر میں ڈاکٹروں کو تربیت کی ضرورت ہے۔
تاہم عالمی ادارہ صحت نے پانڈاس کو اپنی بیماریوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
نئی تحقیق جیسے کہ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کا دماغی بینک ان بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنے اور علاج ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔
الغرض یہ عام گلے کی بیماری کا ایک نایاب لیکن تباہ کن، رخ ہے جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب ایک بچہ اچانک بدل جائے تو شاید اس کے پیچھے کوئی نظر نہ آنے والی جنگ چل رہی ہو اور یہ کہ وقت پر تشخیص اور ہمدردی سے کیا گیا علاج ایک بچے کی پوری زندگی کو بچا سکتا ہے۔













