ترکیہ کا اسرائیل کیساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان، فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کے لیے بند

جمعہ 29 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترک وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے جمعے کے روز پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر نہایت سخت اور دوٹوک مؤقف پیش کیا۔

اپنے خطاب میں ترک وزیر خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات ختم کر دیے ہیں۔ ترک بحری جہازوں کو اسرائیلی بندرگاہوں پر جانے کی اجازت نہیں ہے اور ترک فضائی حدود اسرائیلی طیاروں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: برطانیہ نے لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کردی

انہوں نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ 2 برس سے غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے اور بنیادی انسانی اقدار کو دنیا کی آنکھوں کے سامنے پامال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں ہونے والے مظالم انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوں گے۔

حکان فیدان نے خبردار کیا کہ اسرائیل کو بے لگام حملے جاری رکھنے کی اجازت دینا نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت تاریخ کا دھارا بدلنے کی طاقت رکھتی ہے، یہ مظلوموں کے لیے ایک علامت بنے گی اور موجودہ بوسیدہ عالمی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔

یہ بھی پڑھیے: سلووینیا اسرائیل کے ساتھ اسلحہ کی تجارت پر پابندی لگانے والا پہلا یورپی ملک بن گیا

ترک وزیرِ خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنا ہو۔ انہوں نے شام کے حوالے سے بھی کہا کہ ترکی کسی کو شام کی قدیم اور قیمتی کمیونٹیز کو مسخ شدہ عزائم کے لیے استعمال کرنے یا اس کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے اسرائیل کے غزہ، لبنان، یمن، شام اور ایران پر حملوں کو ’دہشت گرد ریاست‘ کی ذہنیت قرار دیا اور کہا کہ یہ رویہ عالمی نظام کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ حکان فیدان کا یہ خطاب خطے کی صورتحال کے تناظر میں ترکی کے سخت اور واضح مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp