اینٹی ٹرسٹ کیس میں گوگل بڑی کارروائی سے بچ گیا ہے۔
امریکی وفاقی جج نے فیصلہ دیا ہے کہ گوگل کو اپنا کروم براؤزر فروخت نہیں کرنا پڑے گا، تاہم اسے اپنے حریف اداروں کے ساتھ سرچ ڈیٹا شیئر کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پر پوری دنیا کی کل دولت سے زائد جرمانہ کیوں عائد کیا گیا؟
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ڈسٹرکٹ جج امیت مہتا کی جانب سے یہ اقدامات کئی سالہ عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں گوگل پر آن لائن سرچ میں اجارہ داری قائم رکھنے کا الزام تھا۔ مقدمہ اس بات پر مرکوز تھا کہ گوگل نے اپنے اینڈرائیڈ، کروم اور ایپل جیسے دیگر اداروں کی مصنوعات پر خود کو ڈیفالٹ سرچ انجن کے طور پر قائم رکھا۔
فیصلے کے مطابق گوگل کروم اپنے پاس رکھ سکے گا لیکن وہ کسی بھی کمپنی کے ساتھ خصوصی معاہدے نہیں کر سکے گا اور سرچ ڈیٹا حریف کمپنیوں کے ساتھ بانٹنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا گوگل نے 7 اکتوبر کے بعد اسرائیلی فوج کو مصنوعی ذہانت کے آلات فراہم کیے؟
گوگل نے اس فیصلے کو اپنی فتح قرار دیا اور کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی نے اس نتیجے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ اب صارفین کے پاس معلومات تلاش کرنے کے کئی نئے ذرائع موجود ہیں۔
کمپنی نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مارکیٹ میں مقابلہ سخت ہے اور صارفین اپنی مرضی سے سروسز منتخب کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کروم کے صارفین کو سیکیورٹی خطرات کا سامنا، بچا کیسے جائے؟
گوگل نے ابتدا سے ہی غلط معلومات کے الزامات کی تردید کی اور مؤقف اپنایا کہ مارکیٹ میں اس کی مضبوط پوزیشن دراصل بہتر معیار اور صارفین کی پسندیدگی کا نتیجہ ہے۔ گزشتہ سال جج مہتا نے قرار دیا تھا کہ گوگل نے آن لائن سرچ مارکیٹ میں اجارہ داری قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے غیرمنصفانہ طریقے استعمال کیے جو امریکی قانون کی خلاف ورزی تھی۔














