عاطف اسلم کے والد اگست میں انتقال کر گئے تھے۔ گلوکار نے انسٹاگرام پر والد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ایک جذباتی تصویر شیئر کی، جس میں وہ اپنے والد کے گال پر بوسہ دے رہے ہیں۔
ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’میرا آئرن مین، آخری الوداع۔ اللہ آپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے‘۔

تاہم صرف 2 دن بعد ہی عاطف اسلم کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں یومِ آزادی کنسرٹ میں اسٹیج پر نظر آئے۔
جہاں کئی لوگوں نے ان کے حوصلے اور پروفیشنلزم کو سراہا، وہیں کچھ افراد نے ان پر سخت تنقید کی کہ انہوں نے غم کے باوجود شو کیوں منسوخ نہ کیا۔
تنقید کا جواب
ایک حالیہ انٹرویو میں عاطف اسلم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’میرا کام یہ نہیں کہ میں سب کو اپنے حالات سمجھاؤں۔ میرا کام صرف آرٹ تخلیق کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:والد کے انتقال کے باوجود عاطف اسلم کی پرفارمنس، صارفین کی تنقید
مجھے میری موسیقی پر پسند کریں یا ناپسند، لیکن مجھے یہ مت بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ ان کے دکھ کو اپنی شہرت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔یہ لوگ اپنے چینل چلانے کے لیے کہانیاں گھڑ رہے تھے۔
والد کی یادیں اور موسیقی سے رشتہ
عاطف اسلم نے والد کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کبھی اپنے والد کو روتے نہیں دیکھا، لیکن جب انہوں نے پہلی بار میرا کوک اسٹوڈیو پر پڑھا ہوا ’تاجدارِ حرم‘ سنا تو وہ آبدیدہ ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ بچپن میں ان کے والد اکثر صابری برادران کی یہی قوالی سناتے اور سب کو ساتھ بٹھا کر دیکھنے پر مجبور کرتے۔
عاطف کے مطابق وہ اس وقت شاید نہ سمجھ سکے، لیکن بعد میں انہیں والد کی روحانی وابستگی کا احساس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:عاطف اسلم کے کنسرٹ روکنے پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کیوں آستینیں چڑھا لیں؟
والد کو اپنی اصل تحریک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس نے اپنا والد کھو دیا، وہ کسی اور نقصان سے نہیں ڈرتا۔ یہی میرا حوصلہ اور بغاوت ہے۔














