اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور مسلم امریکن لیڈرشپ الائنس (MALA) کے زیر اہتمام ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں مقررین نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان عالمی وعدوں کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے سے ’فرار‘ اختیار کرنے کی بھارتی کوشش، پاکستان کی کڑی تنقید
مقررین نے بھارتی اقدام کو بین الاقوامی قوانین، بشمول انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
Speakers have said that Indian move to unilaterally hold the Indus Waters Treaty in abeyance has raised serious doubts about the sanctity of international commitments@PakistanPR_UN @ForeignOfficePk #RadioPakistan #News #IWT #MALA https://t.co/vt2Z430HSd pic.twitter.com/LWjqllZ3zH
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) September 13, 2025
پاکستان کے مستقل مندوب اقوام متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے کلیدی خطاب میں خبردار کیا کہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے نتائج خطے کے امن اور استحکام کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ڈپٹی مستقل مندوب پاکستان، سفیر عثمان جادون نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اور اس کی بحالی کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ، عالمی بینک اور سول سوسائٹی پر لازم ہے کہ وہ معاہدے کے نفاذ، مذاکرات کے فروغ اور مشترکہ حل تلاش کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ممکنہ عالمی ردعمل
تجزیہ کاروں کے مطابق چونکہ سندھ طاس معاہدے کا ضامن عالمی بینک ہے، اس لیے اس اقدام پر عالمی بینک کی باضابطہ پوزیشن اہمیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے پر عالمی بینک کی حمایت پر وزیرِاعظم کا اظہارِ تشکر
بین الاقوامی برادری خاص طور پر جنوبی ایشیا میں پانی کے وسائل کو ہتھیار بنانے کے ممکنہ خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹیاں بھی مستقبل قریب میں اس معاملے پر بحث کر سکتی ہیں۔














