بڑی جنگیں بڑے سوالات کو جنم دیتی ہیں، مثلاً دوسری جنگ عظیم نے یہ سوال کھڑا کیاکہ پہلی جنگ عظیم کے بعد بہت جلد ہی دوسری جنگ عظیم کی نوبت کیسے آگئی؟ جواب بہت ہی واضح تھا کہ پہلی جنگ عظیم کی مفتوح جرمن قوم کو بری طرح استحصال اور تذلیل دونوں کا شکار کیا گیا، جس کے نتیجے میں نفرت کا ایک الاؤ پکا اور جلد ہی وہ پھٹ بھی گیا۔ چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ سوچی سمجھی پالیسی اختیار کی گئی کہ جرمنی اور جاپان دونوں کو معاشی و سماجی ترقی کے مواقع تو کھلے فراہم کئے گئے تاکہ وہاں کے لوگ خوشحالی حاصل کرسکیں۔
لیکن یہ بندوبست بھی کرلیا گیا کہ یہ پھر سے عسکری طاقت نہ بن سکیں۔ اس حکمت عملی میں ایک نہایت کلیدی نکتہ یہ رہا کہ جرمنی اور جاپان کو جلد ہی دوست کا درجہ دیدیا گیا اور دشمنی والے تصور کی جڑیں کاٹ دی گئیں۔ ان دونوں دوستوں کو کڑی نگرانی میں رکھنے کے لیے امریکا نے ان کے ہاں مستقل بنیاد پر فوجی اڈے قائم کرلیے۔ مگر نگرانی والا تاثر مٹانے کے لیے ان ممالک میں موجود اڈوں کے قیام کی وجہ سوویت یونین اور چین کے خلاف دفاع بتائی گئی۔ چنانچہ اس ماحول میں جرمنی اور جاپان نے ملٹری کے علاوہ ہر شعبے میں غیر معمولی ترقی کی۔
آج کی تاریخ میں ہم اپنے ریجن میں ایک ایسی جنگ دیکھ رہے ہیں جس کی ظاہری شکل امریکا و اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی ہے مگر ہم سب جانتے ہیں یہ گریٹر اسرائیل نامی وہی پراجیکٹ ہے جس میں صرف ایران ہی نہیں عرب دنیا بھی ہدف ہے۔ اگر کوئی شک ہو تو جنگ کے آغاز سے عین قبل اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائک ہکابی کا یہ جملہ دل و دماغ میں تازہ کر لیجیے۔
’اگر اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کو لے لیتا ہے تو یہ اچھا ہوگا‘
یوں ہم ایک ایسی جنگ کا سامنا کررہے ہیں جس میں یہودی اور عیسائی صہیونیوں کا اشتراک واضح ہے۔ سمجھنے والا ایک بہت ہی اہم نکتہ یہ ہے کہ یہودیت الگ مذہب ہے اور عیسائیت الگ۔ مسلمانوں کی طرح عیسائیوں کے بھی کئی فرقے ہیں۔ ان فرقوں میں سے ایک ایسا اقلیتی فرقہ ہی صہیونی ہے جو وجود میں ہی 18 ویں صدی میں آیا ہے۔ یعنی ایونجلیکل فرقہ۔ اگر ہم تاریخی طور پر دیکھیں تو یہودیوں سے بڑے عیسائی فرقوں مثلاً رومن کیتھولک، پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈک فرقوں کی دوسری جنگ عظیم تک شدید دشمنی چلی آئی ہے، اور یہ دشمنی رہی بھی مقدس ہے۔ کیونکہ ان فرقوں کا ماننا ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی سازش کی تھی، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہودیوں کو صدیوں تک عیسائی عتاب کا نشانہ بننا پڑا۔
اب اس حالیہ جنگ کے تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے ساتھ تو ہماری کوئی خونی دشمنی ہی نہیں، ان کا ہم سے اپنے مقدسات کے حوالے سے معمولی سا بھی شکوہ نہیں، بلکہ وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ہاں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان لازمی دینی تقاضا ہے۔ قرآن مجید حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم کے ذکر خیر سے بھرا پڑا ہے۔ تو کیا یہ ممکن نہ تھا یا نہیں ہے کہ ہم بڑے عیسائی فرقوں کے ساتھ قربت پیدا کرکے مغرب کو حلیف بنا لیتے یا بنا لیں؟
ظاہر ہے اس سوال کے جواب کی تلاش کے لیے بھی ہمیں تاریخ سے ہی رجوع کرنا پڑے گا، تاکہ دیکھ سکیں کہ ماحول اس کے لیے کوئی سازگاری بھی فراہم کرتا ہے یا نہیں؟ سو جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو پہلا مثبت اور بڑا سگنل ہمیں دور رسالت کے مکی دور میں ملتا ہے، مسلمان ابھی بہت ہی قلیل تعداد میں تھے کہ خبر آئی، فارس نے رومن ایمپائر کو شکست دیدی، اس خبر سے مسلمان بہت اداس ہوئے۔ چنانچہ سورہ روم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں اور ان میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ خوشخبری دی۔
’قریب کی زمین میں رومیوں کو شکست ہوگئی، اور وہ اس مغلوبیت کے بعد پھر سے غالب آجائیں گے، اول و آخر حکم صرف اللہ کا ہی ہے، اور اس روز مسلمان اللہ کی نصرت سے خوش ہوجائیں گے‘
عیسائی مذہب کے ساتھ ہمارا دور رسالت کا ہی دوسرا طاقتور لنک دیکھیے، مدینہ کی ہجرت سے قبل حبشہ کی ہجرت ہوئی تھی، اور وہاں کے عیسائی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو پناہ دی تھی۔ جب مشرکین مکہ واپسی کے مطالبے کے ساتھ نجاشی کے پاس پہنچے تو نجاشی نے مطالبہ مسترد کردیا، اور مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیے رکھا۔ عیسائی مذہب سے متعلق تیسرا لنک قرآن مجید کی یہ اسٹیٹمنٹ ہے
’تم یقیناً ایمان والوں کے ساتھ دشمنی میں سب لوگوں سے زیادہ سخت یہودیوں اور مشرکوں کو پاؤ گے، اور ایمان والوں سے محبت میں سب سے قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصرانی ہیں۔ یہ اس لیے کہ ان میں عالم اور درویش (راہب) پائے جاتے ہیں اور اس لیے کہ وہ تکبر نہیں کرتے۔‘
(سورہ مائدہ/ آیت 82)
یہ آیت بہت ہی غیر معمولی یوں ہے کہ یہ اپنے پہلے حصے میں گویا یہود و ہنود قدر مشترک کی خبر دے رہی ہے کہ یہ دونوں آپ کے ساتھ دشمنی میں شدت رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے حصے میں آیت عیسائیوں کے معاملے میں بتا رہی ہے کہ انہیں آپ قریبی پائیں گے۔ اور وجہ بھی بتا دی ہے کہ وہ عالم اور درویش بھی ہیں اور متکبر بھی نہیں۔ اگرچہ یہ آیت اس طرح کے کوئی الفاظ تو استعمال نہیں کرتی مگر لگتا یوں ہے جیسے یہ آنے والے زمانوں کے لیے بھی ایک بڑا پولیٹکل اشارہ ہو، ایک رہنمائی کہ مذکورہ تین میں سے آپ کے لیے مفید کون ہوسکتے ہیں۔
اسلام اور عیسائیت کے بیچ کے ماحول کے حوالے سے چوتھا اشارہ دیکھیے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بادشاہوں کے نام اپنے مشہور زمانہ خطوط روانہ کیے تو یہ تاریخی طور پر ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جب رومن ایمپائر کے بادشاہ ہرقل (ہرکولیس) کو خط موصول ہوا تو اس نے خط کو پہلے سر پر رکھا، پھر آنکھوں سے لگایا، اور پھر بوسہ دے کر ترجمان کے سپرد کیا تاکہ وہ ترجمہ کرکے پیغام سے ہرقل کو آگاہ کرسکے۔ ایسا ہی خط مصر کے عیسائی حکمران مقوقس کے پاس بھی گیا تھا، اس نے جواب میں محبت بھر خط ہی اللہ کے رسول کے نام نہ لکھا بلکہ گراں قدر تحائف بھی اللہ کے رسول ﷺ کے لیے روانہ کیے۔ ان تحائف میں حضرت ماریہ قبطیہ نامی باندی بھی شامل تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی ولادت حضرت ماریہ قبطیہ سے ہی ہوئی تھی۔
تیسرے عیسائی بادشاہ حبشہ کے نجاشی تھے، ان سے متعلق مسلم اہل علم کی یہی رائے ہے کہ انہوں نے خط کے جواب میں اسلام قبول کرلیا تھا لیکن سیاسی حالات کی وجہ سے اس کا اعلان نہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال پر اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ چوتھے عیسائی حکمران بحرین کے منذر بن ساوی تھے، انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا۔
سمجھنے والا نکتہ یہ ہے کہ جن دو بادشاہوں نے اسلام قبول نہیں بھی کیا تھا انہوں نے خط موصول ہونے پر رعونت نہ دکھائی تھی بلکہ خط کے لیے اعلیٰ درجے کے احترام کا مظاہرہ کیا تھا۔ جبکہ دو حکمرانوں نے تو محض خط پر ہی اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔ عیسائی حکمرانوں کا یہ رویہ قابل غور ہے۔ کوئی بغض، عناد یا تکبر نہیں بلکہ احترام اور قربت کا اظہار ان کے رویے کے عناصر تھے۔
پانچواں سگنل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں تب نظر آتا ہے جب مسلم لشکر بیت المقدس پہنچا، وہاں راہبوں نے مسلمانوں سے کہا کہ بھئی کسی جنگ ونگ کی ضرورت نہیں۔ ہماری روایات میں ایک فاتح کی آمد کا ذکر موجود ہے۔ اس کی علامات بھی بیان کی گئی ہیں۔ ہمیں اپنا وہ حکمران دکھا دیجیے اگر وہ وہی ہوئے تو ہم لڑے بغیر بیت المقدس آپ کے حوالے کردیں گے۔ چنانچہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیت المقدس تشریف لائے تو راہبوں نے دیکھتے ہی تصدیق کردی کہ ہاں یہی ہیں۔ چنانچہ بیت المقدس مسلمانوں کے سپرد ہوگیا۔
اب بجا طور پر ایک اہم سوال یہ آجاتا ہے کہ پھر یہ صلیبی جنگیں کہاں سے آگئی تھیں اور ان کی خونریز تاریخ کیسے رقم ہوگئی؟ بالعموم سمجھا یہ جاتا ہے مسلم دور میں صرف امیہ، عباسی اور عثمانی خلافت ہی رہی ہے لیکن بیچ میں 909 عیسوی سے 1171 تک اسماعیلی خلافت کا دور بھی گزرا ہے جو فاطمی خلافت کے نام سے زیادہ معروف ہے۔ ان کے ایک خلیفہ حاکم بامراللہ نے بیت المقدس میں قتل عام کیا تھا جس میں عباسی، یہودی اور عیسائی سب نشانہ بنے تھے۔ اس سانحے کے دوران اس نے بیت المقدس میں قائم اس چرچ کو بھی مسمار کردیا تھا جسے عیسائی مذہب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مقبرے کی حیثیت بے پناہ اہمیت حاصل ہے۔ اس واقعے کی خبر عیسائی دنیا تک گئی توشدید ردعمل پیدا ہوا، اور آگے چل کر اس کا نتیجہ صلیبی جنگوں کی صورت نکلا۔
چنانچہ جب صلاح الدین ایوبی نے اس خلافت کا خاتمہ کرکے بیت المقدس بھی آزاد کروا لیا تو اس موقع پر ایوبی کی رحمدلی نے اسے ایک ایسا لیجنڈ بنا دیا کہ آج کا مغرب بھی صلاح الدین ایوبی کا بے حد احترام کرتا ہے، یہاں تک کہ ایوبی کے خلاف صلیبی جنگیں لڑنے والے برطانیہ نے پہلی جنگ عظیم کے دوران ایک بڑا نیول وار شپ لانچ کیا تو اسے ایچ ایم ایس صلاح الدین کا نام دیا، اور یہ جہاز 1947 تک برٹش نیوی کا حصہ رہا۔ ایوبی پر بی بی سی نے چند سال قبل ایک بہترین ڈاکومنٹری بھی بنائی تھی اور ہالی ووڈ کی ایک فلم کنگڈم آف ہیون بھی موجود ہے۔
اب یہ تو ہوگیا تاریخی بیک گراؤنڈ جو اس بات کے بہت مضبوط سگنلز دیتا ہے کہ عیسائیوں اور مسلمانوں کے بیچ گہرے سیاسی تعلقات ہی نہیں بلکہ نجی تعلقات کے قیام کی راہ میں بھی اسلام کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں۔ عرب دنیا میں داخلی طور پر بھی ماحول صدیوں سے ایسا چلا آرہا ہے کہ مقامی عیسائی وہاں خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں، اردن اور لبنان اس کی سب سے واضح مثالیں ہیں، جہاں عیسائی مین اسٹریم کا حصہ ہیں۔
لیکن اس راہ میں ایک خطرناک چیز ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ نام نہاد ابراہیمی معاہدہ ہے جس کے لیے وہ اپنے پہلے دور حکومت سے بہت زور لگا رہے ہیں، اور جوبائیڈن نے بھی اس کا امکان کھلا رکھا تھا۔ ہم اسے خطرناک اس لحاظ سے کہہ رہے ہیں کہ بطاہر یوں لگتا ہے جیسے یہ معاہدہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین پرامن بقائے باہمی کے لیے ہو، لیکن بادی النظر میں یوں لگتا ہے جیسے اس معاہدے کے ذریعے مسلمانوں کو صہیونی بنانا مقصود ہے۔ کیونکہ یہ آئیڈیا آیا ہی اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے ہے۔ سو یہ خدشہ موجود ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے خطے میں اسرائیلی مفادات کو اس طرح مضبوط کیا جائے کہ مسلم دنیا بتدریج اس بیانیے کا حصہ بنتی چلی جائے۔
سو پھر کیا کیا جائے؟ کیا اسٹیٹس کو برقرار رکھا جائے یا کوئی متبادل آپشن ہے؟ وہ آپشن جو ابراہیمی معاہدے کے غبارے سے ہی ہوا نکال دے۔ ہمارے خیال میں آپشن موجود ہے۔ رومن کیتھولک چرچ پچھلے 60 سال سے مسلمانوں کو دعوت دے دے کر تھک گیا کہ بھئی آؤ باہمی احترام کے ساتھ جینے کی کوئی اسکیم بناتے ہیں۔ ایسی اسکیم جس کے تحت مسلمان اور عیسائی اپنے اپنے مذاہب پر رہتے ہوئے باہمی احترام کے ساتھ جی سکیں۔ لیکن ہماری طرف سے کوئی سنجیدہ جواب جاتا نہیں۔ اور وجہ اس کی خوف کی سائیکی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس قربت سے ہمارے لوگ عیسائی بن جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ لاکھوں مسلمان انگلینڈ اور امریکا سمیت پورے مغرب میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے کتنے عیسائی بنے؟ سو اس خوف سے باہر آکر مسلم دنیا کو سوچ سمجھ کر مرحلہ وار انداز میں بڑے عیسائی فرقوں کے ساتھ مکالمے اور تعاون کی راہیں تلاش کرنی چاہییں۔ آغاز رومن کیتھولک فرقے سے بہ آسانی ہوسکتا ہے، وہ پہلے ہی ویٹی کن کے دروازے کھولے بیٹھے ہیں۔ اس پیش رفت سے ہم اسرائیلی مفادات والے ابراہیمی معاہدے کے غبارے سے بہ آسانی ہوا نکال سکتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













