پنجاب میں طوطوں کی رجسٹریشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

جمعرات 18 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

محکمۂ جنگلی حیات پنجاب نے صوبے بھر میں طوطوں کی لازمی رجسٹریشن کی پالیسی نافذ کر دی ہے، جس کا مقصد نایاب اقسام کے تحفظ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام ہے

ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور ریجن عدنان وڑائچ کے مطابق ہر طوطے کی رجسٹریشن کے لیے مالکان کو ایک ہزار روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔

رجسٹریشن کے بعد پرندے کو ایک انگوٹھی نما ٹیک لگائی جائے گی، جس پر منفرد شناختی نمبر درج ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:اسد علی طور کو طوطے کیوں بیچے؟ طوطا فروشوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد

یہ پالیسی صرف دکانداروں اور کمرشل بریڈرز ہی نہیں بلکہ گھروں میں پالے گئے طوطوں پر بھی لاگو ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی رجسٹرڈ طوطے کی افزائش سے بچے نکلیں تو ان کی علیحدہ رجسٹریشن بھی لازمی ہوگی۔

محکمہ نے واضح کیا ہے کہ جنگلی پرندوں اور جانوروں کی کھلی فروخت پر پابندی برقرار رہے گی، جس میں لاہور کی مشہور ٹولنٹن مارکیٹ بھی شامل ہے۔ صرف لائسنس یافتہ بریڈرز اور رجسٹرڈ ڈیلرز کو اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:رنگ شناس طوطے نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کرلیا

ماہرین جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کئی مقامی اقسام کے طوطے تیزی سے کمی کا شکار ہیں، اور یہ اقدام ان کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp