کرکٹ ٹیم کی بہتری کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مشورہ

منگل 30 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایشیا کپ کے فائنل میں قومی ٹیم کی شکست پر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے محسن نقوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انہیں ہٹانے کی اپیل کردی ہے۔

بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کہا ہے کہ میں عاصم منیر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کرکٹ کی بہتری مقصود ہے تو محسن نقوی کو ہٹا کر کسی قابل شخص کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے عہدے پر تعینات کیا جائے جس کو کرکٹ کی سمجھ ہو۔

یہ بھی پڑھیے: محسن نقوی کرکٹ اور وزارت دونوں ساتھ نہیں چلا سکتے، شاہد آفریدی کی آرمی چیف سے ملاقات میں گفتگو

عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام کے مطابق انہوں نے جیل میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سے پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی کو سونپی گئی ہے، کرکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔

عمران خان کا محسن نقوی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 2012 میں قومی ٹیم بھارت کو 10 وکٹون سے شکست دی تھی لیکن اب مسلسل ہار رہی ہے کیوں کہ اس کی باگ دوڑ محسن نقوی جیسے شخص کے ہاتھ میں دے کر ٹیم کو غیرمستحکم کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘