امریکی حکومتی شٹ ڈاؤن: ناسا کے 15 ہزار ملازمین فارغ، مشن معطل

جمعرات 2 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن شروع ہوتے ہی ناسا (NASA) نے اپنے 15 ہزار سے زائد سول ملازمین کو فارغ (furlough) کر دیا ہے۔

اس اقدام کے بعد خلائی ادارے کی بیشتر سرگرمیاں رک گئی ہیں اور صرف وہی مشن جاری رہیں گے جنہیں روکنا خلابازوں کی سلامتی یا حساس آلات کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا

کل 18 ہزار سے زائد ملازمین میں سے صرف 3 ہزار کے قریب کام پر موجود رہیں گے، جنہیں ’اہم ترین‘ مشن کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) اور زمین کے موسم و قدرتی آفات سے متعلق سیٹلائٹ شامل ہیں۔

ناسا کی اپ ڈیٹڈ شٹ ڈاؤن پالیسی کے مطابق، آرٹیمس 2 مشن، جس میں 2026 میں چاند کے گرد خلابازوں کو بھیجنے کا ہدف ہے، کو استثنا دیا گیا ہے تاکہ امریکا کا چاند پر واپسی کا منصوبہ متاثر نہ ہو۔

تاہم دیگر تحقیقی منصوبے، سائنسی گرانٹس اور عوامی روابط کے تمام پروگرام مکمل طور پر معطل کر دیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسپیس ایکس کا مشن کامیاب، ناسا اور ناوا کے اسپیس ویذر سیٹلائٹس خلا میں روانہ

ماہرین کے مطابق اس شٹ ڈاؤن سے ناسا کے ریسرچ پروجیکٹس میں تاخیر ہو گی، جبکہ امریکی حکومت کی جانب سے بقیہ فنڈز صرف وہیں استعمال ہوں گے جو ’صدارتی ترجیحات‘ میں شامل ہوں۔

ناساکے مطابق ادارے کو غیر ضروری آپریشنز بند کرنے اور تنصیبات کو محفوظ بنانے میں نصف دن درکار ہوگا۔ اگرچہ ملازمین کو بعد میں بقایا تنخواہیں مل جائیں گی، مگر یہ کب تک ممکن ہو گا اس کا انحصار کانگریس پر ہے کہ وہ کب فنڈنگ بل منظور کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp