’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا

پیر 29 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ناسا کے منتظم شان ڈفی نے چاند پر انسانی بستی یعنی ایک ’گاؤں‘ بسانے کے منصوبے کی مدت کا اعلان کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: مریخ پر زندگی کے آثار: نئے اور مضبوط سراغ مل گئے

ناسا ایڈمنسٹریٹر شان ڈفی۔

پیر کو ہونے والی بین الاقوامی خلائی کانگریس میں شان ڈفی سے سوال کیا گیا کہ آئندہ دہائی میں ناسا کی کامیابی کس صورت میں دیکھی جائے گی جس پر انہوں نے کہا کہ ہم چاند پر انسانی زندگی کو پائیدار بنا دیں گے اور یہ صرف ایک آؤٹ پوسٹ نہیں بلکہ ایک مکمل گاؤں ہوگا۔

کانفرنس میں امریکا، چین، جاپان، بھارت، یورپ اور کینیڈا کی خلائی ایجنسیوں کے سربراہان شریک ہوئے۔ شان ڈفی نے جس کا اعلان کیا وہ گاؤں عام گاؤں نہیں ہوگا بلکہ ایٹمی توانائی سے چلنے والا گاؤں ہوگا۔

مریخ پر انسانی قدم کی خیالی تصویر۔

واضح رہے کہ ناسا حال ہی میں ایک ’ریکویسٹ فار انفارمیشن‘ جاری کر چکا ہے جس میں چاند پر ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کرنے کے لیے نجی شعبے کی مدد طلب کی گئی ہے۔

مزید پڑھیے: ناسا نے مریخ پر پانی کے غائب ہونے کا نیا سبب دریافت کر لیا

شان ڈفی نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ اگلی دہائی میں ناسا مریخ تک پہنچنے کے مشن میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہوگا اور ہم اس مقام پر ہوں گے جہاں انسانوں کے قدم مریخ کی سطح پر پڑنے والے ہوں گے۔

امسال کانگریس کا تھیم ’پائیدار خلا، مستحکم زمین‘ رکھا گیا ہے۔ اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ناسا منتظم نے خلا میں انسانی زندگی کو برقرار رکھنے کے ہدف کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ناسا کا حق اور دائرہ کار ہے کیونکہ امریکا کی تمام سرکاری ایجنسیوں میں صرف ناسا کو ہی خلائی تحقیق کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دیگر اداروں کا کام زمینی استحکام اور زمین پر زندگی کی بقا کو یقینی بنانا ہے جب کہ ناسا کی اولین ترجیح خلائی دریافت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟