چین میں ایک نیا اور عجیب قاعدہ متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت کچھ عوامی بیت الخلاؤں میں ٹوائلٹ پیپر حاصل کرنے کے لیے پہلے اشتہار دیکھنا یا فیس ادا کرنا ضروری ہے، جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں اس نئے قاعدے کو دکھایا گیا ہے جس میں یہ مشینیں آپ کو ایک QR کوڈ اسکین کرنے کو کہتی ہیں، پھر ایک مختصر اشتہار چلاتی ہیں، اور اس کے بعد چند ٹوائلٹ پیپر جاری کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چہرہ وزیر کا، مگر آواز کسی اور کی؟ وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی
ویڈیو شیئر کرنے کے بعد صارفین سے سوال کیا گیا کہ آپ مفت ٹوائلٹ پیپر کے لیے اشتہار دیکھیں گے یا 0.5 یوان ادا کرنا پسند کریں گے؟ جس نے سوشل میڈیا صارفین کو الجھن میں ڈال دیا اور تنقید کا طوفان برپا کر دیا۔
View this post on Instagram
ایک صارف نے سوال کیا کہ اگر اشتہار دیکھنے یا پیسے دینے کے بعد مزید پیپر چاہیے تو کیا ہوگا؟ ایک صارف کا کہنا تھا کہ میں تو ہر جگہ اپنے ساتھ ٹشو لے کر جاتا ہوں کہ کہیں ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ جب میں چین میں تھا تو وہاں کبھی ٹوائلٹ پیپر نہیں ہوتا تھا۔ مجھے اپنا ساتھ لانا پڑتا تھا۔ اس لیے اگر اب آپ اپنا پیپر بھول جائیں تو یہ کچھ نہ ہونے سے بہتر ہے جبکہ ایک صارف نے بتایا کہ اسی وجہ سے میں نے چین کے سفر کے دوران ہمیشہ اپنے ساتھ ٹشو رکھا۔ مجھے پہلے سے ہی ٹشو ساتھ لے جانے کی عادت تھی، اس لیے میرے لیے نئی بات نہیں تھی، لیکن لوگوں کو QR کوڈ اسکین کرتے دیکھنا کہ تاکہ ٹوائلٹ پیپر ملے، واقعی ایک منفرد تجربہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس کو سزا کے طور پر پونچھا لگانے کا عدالتی حکم، وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟
حکام نے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد عوامی جگہوں پر فضلہ کنٹرول اور انتظام میں بہتری لانا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اس عمل پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے














