بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جمعہ کو ریئٹرز کو بتایا کہ وہ پاکستان کے حکام کے ساتھ بجلی کے ممکنہ نرخوں میں ترمیم پر تبادلہ خیال کر رہا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ یہ بوجھ درمیانے اور کم آمدنی والے گھرانوں پر نہ پڑے۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ جاری مذاکرات میں یہ جانچا جائے گا کہ تجویز کردہ نرخ اصلاحات آئی ایم ایف کے وعدوں کے مطابق ہیں یا نہیں اور ان کے ممکنہ اثرات، بشمول مہنگائی اور معاشی استحکام، کا تجزیہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کو اقتصادی اصلاحات میں سنگ میل قرار دے دیا
وفاقی حکومت نے حال ہی میں بجلی کے نرخوں میں ایک جامع تبدیلی کی تجویز دی ہے، جس کا مقصد صنعت پر بوجھ کم کرنا اور آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ملک کی اقتصادی کمزوریوں اور درمیانی مدتی بیلنس آف پیمنٹس کے مسائل کو حل کرنا ہے۔
بجلی کے نرخ صارف قیمت اشاریے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے یہ تبدیلیاں حساس ہیں، خاص طور پر جب مہنگائی، جو 2023 میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب 5.8 فیصد پر ہے لیکن سیاسی و معاشی دباؤ کا باعث ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی سے صنعت میں نرخ 13 تا 15 فیصد کم ہو سکتے ہیں اور 102 ارب روپے کے سبسڈی ہٹائی جائیں گی، جبکہ درمیانے طبقے کے گھرانے بجلی کے لیے تقریباً 50 فیصد زیادہ ادائیگی کریں گے۔
سب سے کم آمدنی والے صارفین، جو ماہانہ 1 سے 100 یونٹ استعمال کرتے ہیں، کے لیے فکس چارج 400 روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صنعتی صارفین پر بوجھ کم ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی رپورٹ جاری
دوسری جانب، نیپرا نے چھت پر نصب سولر سسٹمز کے لیے بجلی خریداری کے نرخ بھی کم کر دیے ہیں، جس سے سولر صارفین کی بچت کم اور بجلی کی طلب میں کمی کی وجہ سے یوٹیلٹیز کی آمدنی متاثر ہوئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی کہ سولر صارفین پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے، تاکہ 37.6 ملین گرڈ صارفین پر غیر ضروری اثر نہ پڑے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ فکس چارج صارفین کو مکمل طور پر گرڈ سے علیحدہ کر سکتا ہے، جس سے نظام کی طویل مدتی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔














