پیپلز پارٹی کے اندرونی اختلافات ختم کرنے کی کوششیں تیز، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی مدت مکمل کرسکیں گے؟

جمعرات 9 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کی سیاست میں حالیہ دنوں پیدا ہونے والی اندرونی کشیدگی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان معاملات بہتر ہونے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

پارٹی کے صوبائی صدر اور سینیٹر سردار عمر گورگیج نے واضح کیا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک خاندان کی مانند ہے اور خاندانوں میں اختلافات وقتی نوعیت کے ہوتے ہیں، جو جلد ختم کر دیے جائیں گے۔

سینیٹر سردار عمر گورگیج نے کہا کہ وہ خود پارٹی کے تمام رہنماؤں کے درمیان موجود رنجشیں ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی میں اتحاد وقت کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کے عوام کے مسائل بہتر انداز میں حل کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: سرفراز بگٹی وزیراعلیٰ بلوچستان کب تک، پی پی اور ن لیگ کا پاور شیئرنگ فارمولا کیا ہے؟

انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں اور وہی وزیراعلیٰ رہیں گے۔

سینیٹر عمر گورگیج نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی، علی حسن زہری اور علی مدد جتک کے درمیان بعض معاملات ضرور زیرِ بحث آئے ہیں، تاہم ذاتیات کی بنیاد پر الزامات لگانا درست عمل نہیں۔ اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پیش کرے، بصورتِ دیگر ہمیں مشاورت اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہییں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی رہنما کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بلکہ تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ علی حسن زہری اور علی مدد جتک دونوں اپنی جگہ درست ہیں، ہمیں پارٹی کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کی مخلوط حکومت میں اختلافات، سرفراز بگٹی کی وزارت اعلیٰ خطرے میں؟

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اور لیاقت لہڑی کے درمیان بھی اختلافات جلد ختم ہو جائیں گے، کیونکہ پارٹی میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو بات چیت سے حل نہ ہو سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر میر علی حسن زہری اور پارلیمانی سیکریٹری میر لیاقت لہڑی نے وزیراعلیٰ پر کھل کر تنقید کی تھی۔ میر علی حسن زہری نے وندر میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی پالیسیوں نے پیپلز پارٹی کا بیڑا غرق کر دیا ہے، کسی کارکن یا رہنما کے کام نہیں ہو رہے۔

اسی طرح میر لیاقت لہڑی نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ چمن سے گوادر تک نوجوان بے روزگار ہیں، کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، ٹرانسپورٹ کا شعبہ زوال پذیر ہے اور حکومت صرف دعوؤں تک محدود ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ دھماکا انتشار پھیلانے کی گھناؤنی سازش ہے، وزیراعظم کا سرفراز بگٹی کو ٹیلیفون

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان کی موجودہ مخلوط حکومت، جو پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم ہے، اپنے قیام کے ڈیڑھ سال بعد ہی اندرونی اختلافات کا شکار نظر آ رہی ہے۔ تاہم سینیٹر عمر گورگیج کے حالیہ بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ پارٹی قیادت اختلافات کو ختم کر کے اتحاد کی فضا بحال کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

سینیٹر گورگیج کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پارٹی کے اندر جاری اختلافات جلد ختم ہو جائیں گے اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اپنی وزارتِ اعلیٰ کی مدت پورے اعتماد کے ساتھ مکمل کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افریقہ کی منڈیوں میں داخلے کا سنہری موقع، یوگنڈا کی پاکستان کو 25 سال تک ٹیکس چھوٹ سرمایہ کاری کی پیشکش

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں