اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر غور کے دوران جاری سلامتی کابینہ کا اجلاس عارضی طور پر روک کر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں:نوبیل امن انعام 2025 کا اعلان آج، غزہ ڈیل میں تاخیر ٹرمپ کے لیے نقصان کا باعث بن گئی
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق نریندر مودی نے نیتن یاہو کو غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر پیشرفت پر مبارکباد دی۔
مودی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت حاصل ہونے والی پیشرفت پر میں اپنے دوست وزیرِاعظم نیتن یاہو کو مبارکباد دیتا ہوں۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا ہم یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دہشتگردی کسی بھی صورت میں ناقابلِ قبول ہے۔
اسرائیلی حکومت نے جمعرات کو امریکی ثالثی میں تیار کردہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے تحت جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دے دی۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی یروشلم میں موجود تھے، جہاں معاہدے پر رائے شماری کی گئی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہوگی اور پہلے مرحلے میں یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیلی افواج کا جزوی انخلا شامل ہے۔

حماس کے مذاکرات کار خلیل الحیہ نے تصدیق کی کہ امریکا کی ضمانت کے تحت یہ معاہدہ غزہ میں جاری جنگ کے ’مکمل اختتام‘ کی علامت ہے۔
گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان پہلے مرحلے کا امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس سے خطے میں مستقل امن کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔













