مریدکے میں ہفتے کی شب تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید تصادم کے بعد شہر میں حالات کشیدہ ہو گئے۔ تاہم پولیس اور رینجرز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اور علاقے میں امن و امان بحال کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق، یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے مریدکے بائی پاس کے قریب جمع ہونے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مظاہرین نے پتھراؤ، کیل دار ڈنڈوں، پیٹرول بموں اور اندھا دھند فائرنگ کے ذریعے فورسز پر حملہ کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق، مظاہرین نے ابتدا میں نعرے بازی کی، تاہم جب پولیس نے انہیں منتشر ہونے کی وارننگ دی تو کچھ عناصر نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب مشتعل افراد نے پیٹرول بم پھینکے اور پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
پولیس نے صورتحال قابو سے باہر دیکھ کر ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس اور پانی کے شاورز استعمال کیے۔ اس دوران فورسز کو اپنی جان کے تحفظ میں محدود جوابی کارروائی کرنا پڑی۔
جانی نقصان
تصادم کے نتیجے میں ایک پولیس اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) موقع پر جاں بحق جبکہ 48 اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 17 کو گولی لگی۔
ادھر مظاہرین میں 3 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 8 سویلین شہری زخمی ہوئے جن میں ایک راہ گیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
گاڑیاں نذرِ آتش اور توڑ پھوڑ
انتشار پسند عناصر نے علاقے میں سرکاری اور نجی 40 گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔ کئی گاڑیاں جل کر مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ قریبی دکانوں اور عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
پولیس نے فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ پر قابو پایا۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی گھنٹوں تک مریدکے کے مختلف حصوں میں دھواں اٹھتا رہا اور فضا میں کشیدگی محسوس کی جا رہی تھی۔

کارروائی اور گرفتاریاں
ترجمان پولیس کے مطابق، فورسز نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جن میں سے کچھ کے قبضے سے پیٹرول بم، لاٹھیاں اور دیگر اسلحہ نما سامان برآمد ہوا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ یہ مظاہرین ایک منظم منصوبے کے تحت اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ان کے پاس سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے رابطے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
مریدکے، شیخوپورہ اور لاہور کے مضافاتی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ نیٹ ورک یا مزید مسلح گروہوں کو گرفتار کیا جا سکے۔
مریدکے میں امن کی بحالی
پولیس اور رینجرز کی مشترکہ گشت کے بعد علاقے میں حالات قابو میں ہیں۔ مرکزی شاہراہیں کھول دی گئی ہیں جبکہ تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے آج جزوی طور پر بند رہے۔
انتظامیہ کے مطابق، شہر میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر رینجرز کی موجودگی برقرار رہے گی تاکہ دوبارہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔














