سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کو تحقیقات کے لیے طلب کیے جانے کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) سے رپورٹ طلب کرلی۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کے خلاف این سی سی آئی اے کن الزامات پر تحقیقات کر رہی ہے؟ عدالت نے فردوس شمیم نقوی کی گرفتاری سے روکنے کے حکمِ امتناع میں توسیع کر دی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے فردوس شمیم نقوی سمیت 550 افراد پر مقدمہ درج، کراچی میں کتنی گرفتاریاں ہوئیں؟
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق سندھ ہائیکورٹ آئی جی اسلام آباد سے جواب طلب نہیں کر سکتی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا پہلے ایف آئی اے کے پاس موجود سائبر کرائم کے کیسز اب این سی سی آئی اے کو منتقل ہو چکے ہیں؟
جسٹس عمر سیال نے مزید کہا کہ ایک عمر رسیدہ شخص کو بار بار اسلام آباد کیوں بلایا جا رہا ہے؟ اگر درخواست گزار کے خلاف کوئی کیس زیرِ التوا ہے تو اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔
فردوس شمیم نقوی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بار بار اسلام آباد طلب کیا جا رہا ہے جبکہ انہیں معلوم نہیں کہ ان پر الزامات کیا ہیں۔
مزید پڑھیں: میاں محمود الرشید اور فردوس شمیم نقوی کو پولیس نے گرفتار کر لیا
عدالت نے واضح کیا کہ اب ایف آئی اے کا پیکا (PECA) سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ پیکا کے تحت کارروائی کا اختیار اب این سی سی آئی اے کے پاس ہے۔
جسٹس عمر سیال نے مزید کہا کہ فردوس شمیم نقوی کی ہم عزت کرتے ہیں، اگر یہ کہیں تو آئی جی سندھ کو حکم دے دیتے ہیں، مگر آئی جی اسلام آباد کو ہم حکم نہیں دے سکتے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ایف آئی اے نے متعدد نوٹسز کے ذریعے فردوس شمیم نقوی کو اسلام آباد طلب کیا، مگر یہ واضح نہیں کیا کہ تحقیقات کس الزام میں کی جا رہی ہیں۔














