حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں جلسوں اور ریلیوں پر پابندی لگاتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال صرف اذان اور خطے تک محدود کرتے ہوئے دفعہ 144 کے نفاذ میں 7 روز کی توسیع کردی۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پنجاب میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں، اجتماع اور ایسی تمام سرگرمیوں پر موجود پابندی میں ہفتہ 8 نومبر تک دفعہ 144 کے تحت توسیع کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں اسموگ کے خاتمے کے لیے ’اینٹی اسموگ گنز‘ کا استعمال
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ دفعہ 144 کے تحت 4 یا زیادہ افراد کے عوامی مقامات پر جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اسی طرح پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے تحت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہے جبکہ اشتعال انگیز، نفرت آمیز یا فرقہ وارانہ مواد کی اشاعت و تقسیم پر مکمل پابندی ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا فیصلہ امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے کیا گیا۔
’حکومت پنجاب نے دہشتگردی اور امن عامہ کے خدشات کے پیش نظر احکامات جاری کیے۔‘
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا کہ دفعہ 144 کے تحت پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، جنازہ اور تدفین پر نہیں ہوگا۔ اسی طرح سرکاری فرائض کی انجام دہی پر موجود افسران و اہلکار اور عدالتیں پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔

ترجمان نے کہاکہ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان اور جمعہ کے خطبہ کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر عوامی جلوس و دھرنا دہشت گردوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہو سکتا ہے اور شرپسند عناصر عوامی احتجاج کا فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ریاست مخالف سرگرمیاں کر سکتے ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے ہفتہ 8 نومبر تک دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے اور عوامی آگاہی کے لیے نوٹیفیکیشن کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت کی گئی ہے۔














