لاہور کی 30 سالہ پرانی پرندہ مارکیٹ کیوں مسمار کی گئی؟

جمعہ 7 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پرندہ مارکیٹ لاہور کی قدیم اور مشہور مارکیٹوں میں سے ایک تھی، جو دہائیوں سے پرندوں اور پالتو جانوروں کی خرید و فروخت کا مرکز تھی۔ دکانداروں نے الزام لگایا کہ نوٹس کے باوجود معاوضے کا وعدہ پورا نہ کیا گیا، جس سے سینکڑوں خاندان بے روزگار ہو گئے ہیں۔

داتا دربار توسیعی منصوبہ اور مسماری کی کارروائی

لاہور میں حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے دربار کی توسیع اور بھاٹی گیٹ سے موہنی روڈ تک ری ماڈلنگ منصوبے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سینیٹری پیڈز پر ٹیکس چیلنج، لاہور ہائیکورٹ میں رِٹ قابلِ سماعت قرار

لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور ٹریفک انجینئرنگ اینڈ ٹرانسپورٹ پلاننگ ایجنسی (ٹیپا) کی مشترکہ ٹیموں نے بھاٹی چوک میں واقع تیس سال پرانی پرندہ مارکیٹ کو مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے۔

5 نومبر کو علی الصبح داتا دربار اور بھاٹی چوک ری ماڈلنگ و توسیعی منصوبے کے تحت ایل ڈی اے، ٹیپا، محکمہ اوقاف اور پولیس کے تعاون سے مارکیٹ گرائے جانے کی کارروائی کی گئی، جس میں میونسپل کارپوریشن کی ملکیت والی 16 کنال اراضی پر قائم 152 دکانوں کو مسمار کر دیا گیا اور سرکاری جگہ کو واگزار کروا لیا گیا۔

ایل ڈی اے کا مؤقف

ایل ڈی اے کے ترجمان کے مطابق یہ مارکیٹ غیر قانونی تھی اور اسے خالی کرنے کے لیے کئی بار نوٹسز دیے گئے تھے، لیکن دکانداروں نے جگہ خالی نہیں کی۔ اب اس جگہ کو واگزار کروایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں پیپلز پارٹی کے شریک اقتدار ہونے کا امکان

ترجمان نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، اور آپریشن کی وجہ سے جانوروں کے ملبے تلے دبنے کے دعوے مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔

دکانداروں کا احتجاج

تاہم دکانداروں نے آپریشن پر شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رات کے اندھیرے میں اچانک کارروائی کی گئی، جس سے انہیں قیمتی پرندوں اور سامان کو محفوظ بنانے کا موقع تک نہ ملا۔

کئی دکانداروں کے مطابق ملبے تلے سینکڑوں پرندے اور جانور دب کر ہلاک ہو گئے، جبکہ کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ متاثرین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری معاوضہ اور متبادل روزگار کا مطالبہ کیا ہے۔

حکام کا مؤقف اور عوامی ردعمل

صوبائی وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے حال ہی میں سائٹ کا دورہ کیا اور منصوبے کی تفصیلات پر بریفنگ لی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی تجاوزات ختم کرنے اور شہری خوبصورتی بڑھانے کے لیے ضروری تھی۔

تاہم سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل شدید ہے اور کئی صارفین نے اسے ظلم قرار دیا ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرین کے مسائل جلد حل کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صومالی قزاقوں کو تاوان ادا نہیں کریں گے، پاکستان عالمی قوانین کا پابند ہے، اسحاق ڈار

ملک کے مختلف علاقوں میں 30 اگست سے 4 ستمبر تک بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کا بند راستے کھولنے اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا اعلان، گرین بس سروس کا افتتاح کردیا

بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے نائیکوپ فعال، ویزے کا بھی کوئی مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کا منفی پروپیگنڈا بے نقاب

دیامیر بھاشا ڈیم کا 4500 میگاواٹ بجلی منصوبہ منسوخ نہیں ہوا، وزارتِ اقتصادی امور نے گمراہ کن دعوؤں کو مسترد کردیا

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں