چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کوئی باپ بھی چاہے تو 18ویں ترمیم ختم نہیں کرسکتا۔
یہ بھی پڑھیں:قومی اسمبلی: 27ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل شروع
انہوں نے کہا کہ ایک سال پہلے 26ویں ترمیم پاس ہوئی، اس وقت ہم نے کوشش کی تھی کہ سب کی مشترکہ کوششوں اور مشاورت سے آئین سازی ہو۔ 1973 کا آئین ہو یا 18ویں ترمیم، یہ سب مشاورت سے منظور ہوئیں۔ ہم نے 26ویں ترمیم بھی اسی جذبے کے تحت کی، جس کے نتیجے میں آئینی بینچز بنے، اور اس کے لیے وسیع سیاسی مشاورت کی گئی۔
26ویں ترمیم میں تمام سیاسی قوتوں کی شمولیت
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے مولانا فضل الرحمان سے مشاورت کی جنہوں نے پی ٹی آئی کو بھی انگیج کیا۔ جب 26ویں ترمیم ہوئی تو نہ صرف مولانا فضل الرحمان نے ساتھ دیا بلکہ پی ٹی آئی نے بھی ووٹ دیے بغیر حمایت کی۔ پی ٹی آئی کی اجازت سے ہی 26ویں ترمیم ممکن ہوئی۔

27ویں ترمیم اور نیا آئینی ڈھانچہ
انہوں نے کہا کہ اب 27ویں ترمیم کے ذریعے ہم چارٹر آف ڈیموکریسی کے نامکمل نکات مکمل کرنے جا رہے ہیں۔ اس ترمیم کے تحت آئینی بینچ تشکیل دیا جا رہا ہے اور آرٹیکل 243 میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ہم آرمی چیف کو فیلڈ مارشل بنا رہے ہیں اور اس عہدے کو آئینی تحفظ دینے جا رہے ہیں۔
سیاسی مشاورت ہی قانون سازی کی اصل طاقت
بلاول بھٹو نے کہا کہ آئین کے تحت ہمارے دفاعی اداروں کے بارے میں کچھ ترامیم لائی جا رہی ہیں۔ قانون سازی کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ کتنی بھاری اکثریت سے پاس ہوئی بلکہ یہ کہ اس کے پیچھے کتنی سیاسی مشاورت ہے۔ 1973 کا آئین آج تک غیر متنازع ہے کیونکہ قائدِ ذوالفقار علی بھٹو نے اسے تمام جماعتوں کی مشاورت سے منظور کرایا۔

18ویں ترمیم صوبائی حقوق کی ضمانت
انہوں نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آمریت کے خلاف جدوجہد کے بعد حکومت سنبھالی تو 18ویں ترمیم منظور کی گئی۔ اس ترمیم نے صوبوں کو حقوق دیے اور سیاسی مشاورت کے ذریعے منظور ہونے کی وجہ سے یہ اتنی مضبوط ہے کہ کوئی بھی چاہے، اسے ختم نہیں کرسکتا۔
27ویں ترمیم میں اپوزیشن کی شمولیت کی ضرورت
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے دستخط ہیں۔ 27ویں ترمیم کے لیے حکومت کے پاس اکثریت تو موجود ہے لیکن اگر اپوزیشن بھی اپنا کردار ادا کرتی تو یہ ترمیم زیادہ مضبوط ہوتی۔ ہم نے اس کمیٹی میں مشاورت کے ساتھ حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:27ویں آئینی ترمیم میں تکینکی غلطی نہیں، قومی اسمبلی نے اچھی تجاویز دیں جس پر غور ہورہا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام صرف اپنے لیڈر کے لیے رونا دھونا نہیں، بلکہ قانون سازی میں حصہ لینا بھی ہے۔ انہیں کمیٹیوں میں بیٹھ کر تجاویز دینی چاہئیں کہ کون سی تجویز غلط اور کون سی درست ہے۔
دہشتگردی کی مذمت اور قومی اتحاد کی اپیل
اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات پیش آئے ہیں جن کی پیپلز پارٹی اور پوری قوم کی جانب سے شدید مذمت کی جاتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم قومی سلامتی کے معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو ایک ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد اور اتفاق سے ممکن ہے۔ پورے ملک کو ایک ہو کر دہشت گردوں اور درندوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
دہشتگردوں کے خلاف عزم کا اعادہ
ان کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر دہشت گرد سر اٹھا رہے ہیں، مگر پاکستان نے پہلے بھی دہشت گردوں کو شکست دی اور اب بھی دے گا۔ پاکستان کی عوام، افواج اور سول سوسائٹی نے قربانیاں دے کر وہ کام کیا جو افغانستان میں نیٹو فورسز نہ کرسکیں۔














