بھارت میں حکام نے القاعدہ سے مبینہ تعلق کے نام پر 5ریاستوں میں بنگلہ دیشی مہاجرین اور مقامی مسلمانوں کے خلاف بیک وقت چھاپے مارے، جس سے متعدد علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے مغربی بنگال، تریپورہ، میگھالیہ، ہریانہ، اور گجرات میں 10 مقامات پر کارروائیاں کیں۔ ان چھاپوں کے دوران ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دستاویزات قبضے میں لی گئیں۔
اگرچہ کارروائی کو ’انسدادِ دہشتگردی آپریشن‘ کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ چھاپوں سے عام زندگی متاثر ہوئی اور بے گناہ افراد کو ہراساں کیا گیا، جن کا مبینہ مشتبہ افراد سے کوئی تعلق نہیں۔
مقدمے کی تفصیل
یہ کیس 2023 میں درج کیا گیا تھا، جس میں 4 بنگلہ دیشی شہریوں پر بھارت میں داخلے اور مبینہ طور پر القاعدہ سے روابط رکھنے کا الزام ہے۔
NIA کے مطابق ملزمان فنڈ ریزنگ اور شدت پسندی کے فروغ میں ملوث تھے۔
تاہم ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات کو اکثر ’ہندو قوم پرست حکومت‘ کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں ’القاعدہ‘ یا ’دہشتگردی‘ کے نام پر چلائی جانے والی کئی کارروائیاں دراصل بنگلہ دیشی نژاد مزدوروں اور مقامی مسلم برادریوں کو دبانے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔
ان کے بقول، یہ بیانیہ سیاستی اور سماجی تعصب کو بڑھا رہا ہے اور اقلیتی طبقات کے خلاف خوف اور بداعتمادی پیدا کر رہا ہے۔














