جب یورپ کو پاکستان کی بات سمجھ آئی

پیر 1 جون 2026
author image

مشکور علی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی سیاست میں بعض اعترافات محض بیانات نہیں ہوتے، وہ تاریخ کے فیصلے بن جاتے ہیں۔ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کا حالیہ بیان بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یورپی ممالک کی جانب سے اپنی فوجی صلاحیتوں میں کمی ایک ’سنگین غلطی‘ تھی۔ ان کے بقول یورپ نے یہ فرض کر لیا تھا کہ اگر کبھی کوئی بڑا بحران پیدا ہوا تو امریکا اس کے دفاع کے لیے موجود ہوگا، مگر آج کے حالات نے ثابت کر دیا ہے کہ ہر قوم کو اپنی سلامتی کا بندوبست خود کرنا پڑتا ہے۔

یہ محض ڈنمارک کا اعتراف نہیں، بلکہ پورے یورپ کی اجتماعی خود احتسابی ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یورپ نے امن کے ایک طویل دور کا خواب دیکھا۔ دفاعی بجٹ کم کیے گئے، افواج کا حجم گھٹایا گیا اور وسائل سماجی بہبود کے منصوبوں کی طرف منتقل کر دیے گئے۔

جرمنی، جو ایک زمانے میں یورپ کی مضبوط ترین فوجی قوتوں میں شمار ہوتا تھا، 2022 میں یوکرین جنگ شروع ہونے تک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا صرف ڈیڑھ فیصد دفاع پر خرچ کر رہا تھا، حالانکہ نیٹو کا ہدف 2 فیصد مقرر تھا۔ یوکرین جنگ نے یہ خوش فہمی چند ہفتوں میں توڑ دی۔ جرمنی نے فوری طور پر ایک سو ارب یورو کے خصوصی دفاعی فنڈ کا اعلان کیا۔

پولینڈ نے اپنے دفاعی اخراجات بڑھا کر قومی پیداوار کے 4 فیصد سے بھی زیادہ کر دیے۔ سویڈن اور فن لینڈ جیسے ممالک، جو عشروں تک غیر جانبداری پر فخر کرتے رہے، نیٹو میں شامل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ یورپ بھر میں اسلحہ ساز صنعتیں دوبارہ سرگرم ہو گئیں اور فوجی بھرتیوں میں اضافہ شروع ہو گیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر دفاع اتنا غیر ضروری شعبہ تھا تو یورپ کو اچانک اربوں یورو دوبارہ اس پر کیوں خرچ کرنا پڑ رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب پاکستان کے تناظر میں اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔

پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں جغرافیہ خود ایک مستقل چیلنج ہے۔ مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان، شمال میں چین اور وسطی ایشیا کی راہداریوں سے جڑا ہوا یہ خطہ کبھی مکمل طور پر خطرات سے خالی نہیں رہا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی۔ مختلف تخمینوں کے مطابق دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ نے پاکستان کو ایک سو ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان پہنچایا۔ ایسے ماحول میں دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط رکھنا کوئی عیش نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔

پاکستان میں ہر سال بجٹ پیش ہوتے ہی ایک بحث جنم لیتی ہے۔ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ دفاع پر اتنی رقم کیوں خرچ کی جاتی ہے؟ بظاہر یہ سوال جائز محسوس ہوتا ہے، کیونکہ تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کے شعبے بھی وسائل کے طلبگار ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ دفاع پر خرچ کیوں کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اگر دفاع پر خرچ نہ کیا جائے تو اس کی قیمت کیا ہوگی؟

تاریخ کا جواب نہایت واضح ہے۔ کمزور دفاع رکھنے والی ریاستیں اکثر اپنے فیصلوں کی خود مختار نہیں رہتیں۔ یوکرین، جارجیا، شام، لیبیا اور دنیا کے کئی دوسرے خطوں کی مثالیں سامنے ہیں جہاں سلامتی کے بحرانوں نے برسوں کی ترقی کو چند مہینوں میں نگل لیا۔ تاریخ بارہا یہ سبق دے چکی ہے کہ کمزوری خود اپنے اندر تباہی کا سامان رکھتی ہے۔ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا تھا: ’ہے جرم ضیعفی کی سزا مرگ مفاجات‘۔

پاکستان نے مئی 2025 کی حالیہ کشیدگی کے دوران ایک بار پھر دیکھا کہ مضبوط دفاعی صلاحیت کس طرح قومی اعتماد اور سفارتی پوزیشن کو تقویت دیتی ہے۔ جدید جنگیں صرف محاذوں پر نہیں لڑی جاتیں؛ ان میں فضائی برتری، سائبر صلاحیت، انٹیلیجنس، میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی تیاری بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ سب کچھ برسوں کی سرمایہ کاری سے حاصل ہوتا ہے، ہنگامی بنیادوں پر نہیں۔

اگر یورپ کا اعتراف ایک تاریخی سبق ہے تو ہمارے خطے کی زمینی حقیقت اس سبق کو اور بھی واضح کر دیتی ہے۔ بھارت نے مالی سال 2026-27 کے لیے اپنے دفاعی بجٹ میں قریباً 15 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 7.85 لاکھ کروڑ بھارتی روپے، یعنی قریباً 93.5 ارب ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔ یہ رقم بھارتی وفاقی بجٹ کا قریباً 14.67 فیصد بنتی ہے اور تمام وزارتوں میں سب سے بڑا حصہ دفاع کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

اس بجٹ میں 2.19 لاکھ کروڑ روپے نئے جنگی طیاروں، بحری جہازوں، میزائل نظاموں اور جدید عسکری سازوسامان کی خریداری کے لیے رکھے گئے ہیں، جبکہ 1.39 لاکھ کروڑ روپے مقامی دفاعی صنعت کے فروغ اور اندرونِ ملک تیار ہونے والے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں 3.65 لاکھ کروڑ روپے فوجی آپریشنز اور تنخواہوں جبکہ 1.71 لاکھ کروڑ روپے پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ دنیا کی ابھرتی ہوئی بڑی معیشتیں بھی دفاع کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے دفاعی تیاری محض ایک پالیسی انتخاب نہیں بلکہ جغرافیائی اور تزویراتی ضرورت ہے۔ جب خطے کی سب سے بڑی فوجی طاقت اپنی عسکری صلاحیتوں کو تیزی سے جدید بنا رہی ہو تو پاکستان کے لیے دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں ہو سکتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے وہ ممالک جو آج دفاعی اخراجات میں اضافے کی بات کر رہے ہیں، وہی چند برس پہلے عسکری بجٹ میں کمی کو ترقی کی علامت سمجھتے تھے۔ اب ان کی قیادتیں خود اعتراف کر رہی ہیں کہ سلامتی کو نظر انداز کرنا ایک تاریخی غلطی تھی۔

درحقیقت دفاع اور ترقی کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنا ہی بنیادی غلطی ہے۔ ایک محفوظ ریاست ہی سرمایہ کاری کو متوجہ کرتی ہے، صنعت کو فروغ دیتی ہے، تجارت کو تحفظ دیتی ہے اور اپنے شہریوں کو مستقبل کا یقین فراہم کرتی ہے۔ امن ترقی کو جنم دیتا ہے، لیکن امن کی حفاظت کے لیے طاقت درکار ہوتی ہے۔

میٹے فریڈرکسن کا بیان اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قومی سلامتی کسی دوسرے ملک سے مستعار نہیں لی جا سکتی۔ ہر قوم کو اپنی آزادی، خود مختاری اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے خود تیار رہنا پڑتا ہے۔

وقت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ دفاعی اخراجات کوئی اضافی بوجھ نہیں، بلکہ ریاست کے وجود کا بیمہ ہیں۔ سڑکیں، پل، عمارتیں اور منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان سب کی بنیاد ایک محفوظ اور خودمختار ریاست ہوتی ہے۔ جب یہ بنیاد کمزور پڑ جائے تو ترقی کی پوری عمارت خطرے میں آ جاتی ہے۔

آج یورپ جس حقیقت کا اعتراف کر رہا ہے، پاکستان اپنے جغرافیے اور تجربات کی وجہ سے اسے پہلے ہی جانتا تھا۔ قومی دفاع پر خرچ ہونے والی رقم دراصل ہتھیاروں پر نہیں، ریاست کے مستقبل، آزادی اور خودمختاری کے تحفظ پر سرمایہ کاری ہوتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حج کے دوران پاکستانی انتظامات کی پذیرائی، شکایات کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی، سردار یوسف

گلگت بلتستان کو این ایف سی میں حصہ ملنا چاہیے، یہ خطہ سوئٹزرلینڈ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے، خواجہ سعد رفیق

’آخری سالوں کو میرے لیے عذاب نہ بناؤ‘، کنگ چارلس کی شہزادہ ہیری سے صلح کی خواہش سامنے آگئی

عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد

عیدالاضحی تعطیلات: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر ریکارڈ رش، 11 لاکھ سے زائد سیاحوں کی آمد

ویڈیو

جنگلی حیات پر تحقیق اور آگاہی کے لیے سرگرم نوجوان جوڑے کی کہانی

آئندہ مالی سال کا بجٹ: کس کو ریلیف ملے گا اور کس پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھے گا؟

ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

کالم / تجزیہ

گجرات کی گلیاں انور مسعود کو یاد کرتی ہیں

کوئٹہ سے تل ابیب تک

عورت کو آسان ہدف سمجھنے والے کمزور