فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری کا بوائلر پھٹنے سے دھماکا، 15 جانبحق، متعدد زخمی

جمعہ 21 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں واقع کیمیکل فیکٹری کا بوائلر پھٹنے سے زوردار دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ جاں بحق افراد میں 4 بچے اور 2 خواتین بھی شامل ہیں۔

دھماکے کے اثرات کے باعث فیکٹری کے آس پاس کے 9 مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر الائیڈ اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹائٹینک حادثہ: آخری لمحات میں کیا ہوا تھا، اصل صورتحال کا سراغ لگ گیا

ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے مزید افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کیمیکل کے باعث آگ بجھانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اس کام کے لیے 15 فائر ٹینکرز تعینات کیے گئے ہیں۔

ڈی سی فیصل آباد ندیم ناصر نے میڈیا کو بتایا کہ یہ فیکٹری گلو بنانے کی ہے اور علاقے میں قریباً 100 فیکٹریاں موجود ہیں۔ فیکٹری قریباً 25 برس پرانی ہے اور بعد میں اس کے اطراف آبادکاری ہوئی۔

مزید پڑھیں:نئی دہلی بم دھماکا خود کش تھا، بھارتی حکام کا بمبار کے ساتھی کی گرفتاری کا دعویٰ

انہوں نے بتایا کہ فیکٹری مالک کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

بوائلر پھٹنے کی اطلاع صبح 5 بج کر 28 منٹ پر موصول ہوئی، ریسکیو 1122

ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد نے بتایا کہ فیصل آباد کے ملک پور شہاب ٹاؤن، کبڈی اسٹیڈیم گراؤنڈ کے علاقے میں بوائلر کے پھٹنے کے حادثے کی اطلاع ریسکیو 1122 کو آج صبح 5 بج کر 28 منٹ پر موصول ہوئی، جس کے بعد فوری طور پر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئیں۔

ان کے مطابق حادثے کے فوری ردعمل میں ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو فیصل آباد انجینئر احتشام کی قیادت میں ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیم نے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

مزید پڑھیں: بارڈر کی بندش نے طالبان کو دہلی کی دہلیز تک پہنچا دیا، آگے کیا ہوگا؟

آپریشن میں 22 ایمرجنسی وہیکلز اور 130 سے زائد ریسکیور حصہ لے رہے ہیں۔ منہدم عمارت سے کئی افراد کو زندہ نکالا گیا، تاہم شدید چوٹوں کے باعث کچھ افراد بعد میں جان کی بازی ہار گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک 15 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور ڈیڈ باڈیز کی بھی منتقلی عمل میں ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اربن سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ابھی جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر مزید افراد کو ملبے تلے سے نکالا جا سکے۔

کیمیکل فیکٹری میں دھماکے کی ابتدائی تحقیقات: حادثہ ممکنہ طور پر گیس لیکج کی وجہ سے ہوا، 9 مکانات متاثر

ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد نے بتایا کہ فیصل آباد میں کیمیکل فیکٹری میں ہونے والے زوردار دھماکے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حادثہ ممکنہ طور پر گیس لیکج کی وجہ سے ہوا۔

مزید پڑھیں: ’شیخ حسینہ کو نہیں بھارتی بالادستی کو سزائے موت سنائی گئی‘، بالآخر تاریخ کا فیصلہ سامنے آگیا

حادثہ صمد بونڈ کیمیکل فیکٹری میں پیش آیا، اس مقام پر 4 فیکٹریاں موجود تھیں۔ باقی 3 فیکٹریاں، جن میں گلو، سیلیکون اور ایمبرائیڈری کے کام ہوتے ہیں، اس وقت بند تھیں۔

حادثے کے اثرات کے باعث قریب کے 9 مکانات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں 31 ایمرجنسی وہیکلز اور 145 سے زائد ریسکیورز حصہ لے رہے ہیں۔ منہدم عمارت سے کئی افراد کو زندہ نکالا گیا، تاہم شدید چوٹوں کے باعث کچھ افراد بعد میں جاں بحق ہوگئے۔

فاروق احمد کے مطابق، متاثرین میں 3 مزدور شامل ہیں جبکہ باقی زخمی یا ہلاک ہونے والے عمومًا رہائشی ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے مزید افراد کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp